جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ اپوزیشن اور حکومت کے درمیان معقول دوری ہونی چاہیے، بلاوجہ تعصب، نفرت اور مخالفت برائے مخالفت نہیں ہونی چاہیے۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان سے بانی پی ٹی آئی سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے مختصر جواب دیتے ہوئے کہا، “اچھی بات ہے۔”
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اپوزیشن کا فرض حکومت کی کمزوریوں کی نشاندہی کرنا اور ان کی اصلاح کرنا ہے۔ اپوزیشن کو محض مخالفت برائے مخالفت کی سیاست نہیں کرنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ صوبوں کے معاملے پر حمایت یا مخالفت کی لکیر کھینچنے سے مسائل پیدا ہوئے ہیں۔ اس معاملے پر مزید بحث ہونی چاہیے تاکہ اس کی اصولی اور عملی حیثیت واضح ہوسکے۔
مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ پہلے یہ معلوم کرنے دیا جائے کہ ماحول تیار ہے یا نہیں، اس کے بعد ہی کسی معاملے پر حتمی رائے قائم کی جاسکتی ہے۔
مولانا فضل الرحمان کی گفتگو ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جے یو آئی (ف) اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے درمیان سیاسی رابطے اور مشاورت کا سلسلہ جاری ہے۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے بانی اور سابق وزیر اعظم عمران خان کو اسلام آباد کے نجی اسپتال شفاء انٹرنیشنل منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے عمران خان کی صحت اور ملاقاتوں سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران حکم دیا کہ عمران خان کو سخت سکیورٹی میں اسپتال منتقل کیا جائے اور اسپتال کے باہر امن و امان کی صورتحال متاثر نہیں ہونی چاہیے۔
عدالتی حکم کے مطابق اسپتال میں عمران خان کے ہمراہ ان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان اور بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان بھی ہونگے۔ اسپتال کے اخراجات کے حوالے سے عدالت نے کہا کہ اخراجات عمران خان کی فیملی خود برداشت کرے گی جبکہ میڈیکل رپورٹ عدالت میں جمع کرائی جائیگی۔
اسپتال میں قیام کی مدت پر عدالت نے کہا کہ عمران خان آئندہ سماعت تک اسپتال میں رہیں گے، یاد رہے کہ عدالت نے سماعت 16 ستمبر تک ملتوی کی ہے جس کا مطلب ہے کہ عمران خان تقریباً ایک مہینہ شفاء انٹرنیشل اسپتال رہیں گے۔
سپریم کورٹ کا عمران خان کو شفاء انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا حکم
بینچ میں جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس اشتیاق ابراہیم بھی شامل تھے، جس نے عمران خان کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا حکم بھی دیا۔
دوسری جانب ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے کے حکم پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو نوٹس ہی جاری نہیں کیا گیا تاہم عدالت نے حکومت کا اعتراض بھی حکم نامے کا حصہ بناتے ہوئے سماعت 16 ستمبر تک ملتوی کر دی۔
