اسلام آباد: وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ آزادانہ اور میرٹ پر مبنی ہے، حکومت عدالت عظمیٰ کے فیصلے کو تسلیم کرتی ہے۔
رانا ثنااللہ نے کہا کہ تحریک انصاف نے عدالت سے رجوع کرنے میں بہت دیر کردی، یہی سیدھا اور قانونی راستہ تھا۔ اگر پی ٹی آئی پہلے عدالت چلی جاتی تو یہ ریلیف پہلے بھی مل سکتا تھا۔
انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف نے درست فورم پر اپنا کیس رکھا، جس کا فیصلہ میرٹ کے مطابق آیا ہے، رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی آج عدالت کے فیصلے کی تعریف کر رہی ہے، اسے چاہیے کہ جب فیصلہ اس کی مرضی کے خلاف آئے تب بھی عدالتوں کا احترام کرے۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے بانی اور سابق وزیر اعظم عمران خان کو اسلام آباد کے نجی اسپتال شفاء انٹرنیشنل منتقل کرنے کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا ہے۔
جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے عمران خان کی صحت اور ملاقاتوں سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران حکم دیا کہ عمران خان کو سخت سیکیورٹی میں اسپتال منتقل کیا جائے اور اسپتال کے باہر امن و امان کی صورتحال متاثر نہیں ہونی چاہیے۔
تحریری حکم نامے کے مطابق بانی پی ٹی آئی کے طبی معائنے کیلئے خصوصی میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا حکم دیا گیا ہے۔ اسپتال میں عمران خان کے ہمراہ ان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان اور بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان بھی ہونگے۔
تحریری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو 2 روزمیں اسپتال منتقل کیا جائے، اسپتال کے اخراجات کے حوالے سے عدالت نے کہا کہ اخراجات عمران خان کی فیملی خود برداشت کرے گی جبکہ میڈیکل رپورٹ عدالت میں جمع کرائی جائیگی۔
اسپتال میں قیام کی مدت پر عدالت نے کہا کہ عمران خان آئندہ سماعت تک اسپتال میں رہیں گے۔ عدالت کے تحریری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ ہفتے میں 2 بار بیٹوں سے ٹیلی فون پر بات کرائی جائے، اس کے علاوہ ان کی میڈیکل رپورٹس میڈیا اور عوام میں شیئر کرنے پر پابندی ہو گی۔
عدالتی احکامات کی عدم پاسداری پر تمام مراعات واپس لی جاسکتی ہیں، یاد رہے کہ عدالت نے سماعت 16 ستمبر تک ملتوی کی ہے جس کا مطلب ہے کہ عمران خان تقریباً ایک مہینہ شفاء انٹرنیشل اسپتال رہیں گے۔
دوسری جانب ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے کے حکم پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو نوٹس ہی جاری نہیں کیا گیا، تاہم عدالت نے حکومت کا اعتراض بھی حکم نامے کا حصہ بناتے ہوئے سماعت 16 ستمبر تک ملتوی کر دی۔
سماعت کے دوران جسٹس شاہد وحید نے استفسار کیا کہ عمران خان کے علاج کی رپورٹس پبلک نہ کرنے اور ان کو سیاست کیلئے استعمال نہ کیے جانے کی گارنٹی کون دے گا؟ جس پر پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے یقین دہانی کرائی کہ میڈیکل رپورٹس ڈاکٹرز اور عمران خان کی فیملی کا معاملہ ہے، پارٹی ان کو سیاست کیلئے استعمال نہیں کرے گی۔
جسٹس نعیم افغان نے کہا کہ ایک بات طے کر لیں کہ عمران خان کی صحت پر سیاست نہیں کرے گی، ملاقاتوں کے بعد باہر آ کر سیاست نہ کریں۔
سماعت کے دوران جسٹس نعیم اختر افغان نے عمران خان کے خلاف درج مقدمات کی مکمل تفصیل طلب کیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کتنے مقدمات میں انڈر ٹرائل قیدی ہیں، کتنے کیسز میں سزا یافتہ ہیں، اور کتنے مقدمات میں ان کی سزا معطل ہو چکی ہے، مکمل تفصیل فراہم کی جائے۔
واضح رہے کہ عمران خان کے وکیل خالد یوسف ایڈووکیٹ نے ہم نیوز کو بتایا ہے کہ سابق وزیر اعظم کے خلاف 200 سے زائد مقدمات درج ہیں۔
عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں 3 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی جو بعد میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے معطل کر دی۔ سائفر کیس میں 10 سال قید کی سزا کو بھی ہائیکورٹ نے کالعدم قرار دیا تھا ، اس کے علاوہ نکاح کیس میں 7 سال سزا ہوئی تھی جس میں وہ اور ان کی اہلیہ بری ہو گئے تھے۔ القادر ٹرسٹ اور توشہ خانہ کیس ٹو میں بھی احتساب عدالتوں کی جانب سے سزائیں سنائی گئیں، جن کے خلاف اپیلیں اور سزاؤں کی معطلی کی کارروائیاں عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔
