کاروباری شخصیت میر رضا علی کے اہلخانہ کی نمائندگی کرنے والے وکیل جبران ناصر نے دعویٰ کیا ہے کہ میر رضا کو موت سے قبل طویل وقت تک تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جبکہ کیمیائی تجزیے میں ان کی شرٹ پر تیزاب کے آثار پائے گئے ہیں۔
والدین کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے جبران ناصر نے کہا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کیس سے متعلق کئی اہم حقائق سامنے آئے ہیں، جن سے تحقیقات کے پہلے مرحلے اور شواہد محفوظ رکھنے کے طریقہ کار پر سوالات اٹھتے ہیں۔
وکیل کے مطابق تحقیقات کے دوران ڈاکٹر اسامہ کی جانب سے سیل کیے گئے نمونوں کے تجزیے سے اہم نتائج سامنے آئے اور شرٹ پر تیزاب کے آثار ملنے کا دعویٰ کیا گیا۔
جبران ناصر نے الزام عائد کیا کہ میر رضا پر تیزاب استعمال کیا گیا اور ممکنہ طور پر انہیں تیزاب پلانے کی کوشش بھی کی گئی۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ مقتول کو جسم میں بے ہوشی کی دوا دی گئی اور تقریباً 12 گھنٹے تک تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ تاہم پریس کانفرنس میں لیبارٹری طریقہ کار یا مکمل فرانزک رپورٹ پیش نہیں کی گئی اور ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔
جبران ناصر نے میر رضا کے لاپتا ہونے اور لاش ملنے کے درمیان وقت پر بھی سوالات اٹھائے، 28 جولائی کو تقریباً 4 بج کر 38 منٹ پر میر رضا کو دیکھا گیا تھا جبکہ لاش 29 جولائی کو ملی، اس دوران پیش آنے والے واقعات کی مکمل وضاحت ضروری ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اہلخانہ نے ایک ایسی جگہ کی نشاندہی بھی کی ہے جہاں مبینہ طور پر تیزاب کی خالی بوتلیں موجود تھیں۔ وکیل نے مطالبہ کیا کہ اس مقام اور وہاں موجود شواہد کا بھی نئی تحقیقات میں جائزہ لیا جائے۔
جبران ناصر نے سی سی ٹی وی فوٹیج اور ڈیجیٹل ویڈیو ریکارڈر (ڈی وی آر) کی حفاظت پر بھی سوالات اٹھائے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ متعلقہ ڈی وی آر کو تھانہ ٹاؤن شپ کے ایس ایچ او عادل افضل گاڑی میں لے کر گھومتے رہے۔ انہوں نے تحقیقاتی ٹیم میں کشمیر میں تعینات رہنے والے ایک افسر کی شمولیت پر بھی سوال اٹھایا۔
وکیل نے الزام عائد کیا کہ ابتدائی تحقیقات متاثر ہوئیں اور شواہد ضائع کیے گئے۔ انہوں نے ایس ایس پی سمیع اللہ سومرو اور ایس ایس پی ایسٹ زبیر نذیر شیخ کے خلاف بھی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے کیس سے متعلق اسمارٹ واچ کے معاملے پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ جمعرات کو ایس ایس پی سمیع اللہ سومرو سے اسمارٹ واچ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق ڈیجیٹل اور دیگر شواہد کی تحویل اور محفوظ رکھنے کے عمل میں مکمل شفافیت ضروری ہے۔
جبران ناصر نے کہا کہ اہلخانہ اور ان کی قانونی ٹیم بدھ اور جمعرات کو نئی تشکیل دی گئی تحقیقاتی کمیٹی کے ساتھ موجود رہی اور تمام تحفظات اور معلومات کمیٹی کے سامنے رکھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خاندان چاہتا ہے کہ تحقیقات سے یہ واضح ہو کہ میر رضا کے آخری بار دیکھے جانے سے لے کر لاش ملنے تک کیا ہوا۔
وکیل نے گلستان جوہر تھانے کی جانب سے کیس کی ابتدائی تفتیش پر بھی تنقید کی اور کہا کہ تاحال یہ سوال موجود ہے کہ میر رضا کی موت خودکشی تھی یا قتل۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ شواہد درست طور پر محفوظ اور جانچ نہ کیے گئے تو ممکنہ ملزمان کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
میر رضا 28 جولائی کو گھر سے نکلنے کے بعد لاپتا ہوئے تھے اور اگلے روز گلستان جوہر کے قریب ان کی لاش برآمد ہوئی، ابتدائی طور پر کیس خودکشی کے خدشے سے جوڑا گیا تاہم اہلخانہ نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے موت کے حالات پر سوالات اٹھائے۔
نوجوان میر رضا کی شرٹ کے کیمیائی تجزیے کی رپورٹ سامنے آگئی
بعدازاں عدالت کے حکم پر طارق روڈ قبرستان سے لاش نکال کر میڈیکل بورڈ کی نگرانی میں دوبارہ پوسٹ مارٹم کیا گیا۔
بعد ازاں پوسٹ مارٹم میں میر رضا کے جسم پر پیچھے سے گولی لگنے کا زخم اور دیگر چوٹوں کے آثار سامنے آنے کی اطلاعات نے ابتدائی تحقیقات پر مزید سوالات اٹھا دیے۔ نئی تحقیقاتی ٹیم نے لاش ملنے کی جگہ کا دورہ کیا، متعلقہ افراد سے پوچھ گچھ کی اور کیس سے متعلق مختلف شواہد کا جائزہ لیا۔
تحقیقاتی ذرائع کے مطابق ڈی این اے ٹیسٹ سے بھی برآمد ہونے والی لاش کی شناخت میر رضا کے طور پر ہوگئی، جبکہ جسم سے حاصل نمونوں کا ان کے والدین کے نمونوں سے موازنہ کیا گیا۔
جبران ناصر نے سوال اٹھایا کہ شواہد میں ابہام کس نے پیدا کیا؟ ان کا کہنا تھا کہ اہلخانہ نئی تحقیقات سے پرامید ہیں، تاہم اب تک سامنے آنے والی پیش رفت انہیں مطمئن نہیں کرسکی۔
میر رضا کے والد نے بھی الزام عائد کیا کہ فیروزآباد تھانے کے ایس ایچ او نے ان کے بیٹے کے دوستوں کو تحقیقات کیلئے طلب کرکے دھمکایا۔ کیس کی تحقیقات جاری ہیں جبکہ وکیل کی جانب سے عائد کیے گئے الزامات کی جانچ فرانزک شواہد، ڈیجیٹل ریکارڈ اور دیگر ثبوتوں کی روشنی میں کی جائے گی۔
میر رضا کیس میں خودکشی کا پہلو مسترد کردیا گیا۔
دریں اثنا جناح اسپتال کے ڈاکٹراسامہ شیخ کے مطابق جامعہ کراچی کے آئی سی سی بی ایس لیب کی رپورٹ کی روشنی میں خودکشی کے شواہد نہیں ملے، رپورٹ میں میر رضا کے خون میں بے ہوشی کی دوا کے شواہد پائے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔
رپورٹ کے مطابق میر رضا کی شرٹ کے پچھلے حصے پر گن پاؤڈر کے آثار بھی موجود تھے۔ ڈاکٹر اسامہ شیخ نے رپورٹ کی بنیاد پر خودکشی کے امکان کو مسترد کردیا، فرانزک شواہد کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
