کراچی میں قتل کیے گئے نوجوان تاجر میررضا کی شرٹ کا کیمیائی تجزیہ مکمل ہونے کے بعد رپورٹ پولیس کو موصول ہو گئی ہے۔
تفتیشی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ کیمیائی جانچ کے دوران میر رضا کی شرٹ پر نمک کے تیزاب کے شواہد ملے۔
ذرائع کے مطابق کیمیائی تجزیے میں نوجوان میر رضا کے خون کے نمونے میں بے ہوشی کی دوا کے اجزاء بھی پائے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔
اس کے علاوہ تفتیشی ذرائع کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ میر رضا کی شرٹ پر کمر کی جانب گن شارٹ ریزیڈیو ( جی ایس آر) بھی پایا گیا۔ جی ایس آر کی کمر کی جانب زیادہ مقدار میں موجودگی ظاہر کرتی ہے کہ میر رضا کو گولی اسی جانب سے لگی۔
یاد رہے کہ نوجوان تاجر میر رضا کی پراسرار گمشدگی کا معاملہ 28 جولائی 2026ء کو سامنے آیا تھا، جب وہ گھر سے لاپتہ ہوئے اور اگلے روز گلستانِ جوہر کے قریب سے ان کی لاش برآمد ہوئی۔
ابتدائی طور پر کیس کو کروڑوں روپے کے مالی خسارے، قرض اور لین دین کے معاملات سے جوڑ کر خودکشی کا رنگ دینے کی کوشش کی گئی، اور ایک مبینہ آڈیو بھی سامنے لائی جس میں ادائیگیوں کا ذکر کیا جا رہا تھا۔
تاہم خاندان کے شدید احتجاج اور تفتیش پر عدم اعتماد کے بعد عدالت کے حکم پر طارق روڈ قبرستان میں میڈیکل بورڈ کی نگرانی میں میر رضا کی قبر کشائی کر کے پوسٹ مارٹم کیا گیا جس کی رپورٹ کے مطابق مقتول کو پیچھے (کمر) سے گولی لگی تھی اور جسم پر تشدد کے نشانات موجود تھے، جس سے اہل خانہ کا قتل کا شک درست ثابت ہوا۔
دوسری جانب تفتیشی ذرائع نے مزید دعویٰ کیا ہے کہ جائے وقوعہ کی جیو فینسنگ نہیں کروائی گئی تھی جو آج کروائی جائے گی اور اس سلسلے میں پولیس کی نئی تفتیشی ٹیم نے این سی سی آئی اے سے بھی رابطہ کرلیا ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ یہ معلوم کرنے کے لیے کہ میر رضا کو کسی دھمکی کاسامنا تو نہیں تھا، این سی سی آئی اے میں درخواست بھی جمع کرائی جائے گی۔
