طلال چوہدری توہین عدالت کیس کا فیصلہ آج سنایا جائے گا

طلال چوہدری توہین عدالت کیس کا فیصلہ آج سنایا جائے گا | urduhumnews.wpengine.com

اسلام آباد: پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما طلال چوہدری کے خلاف توہین عدالت کیس کا محفوظ فیصلہ آج سنایا جائے گا جو آئندہ کے لیے ان کی اہلیت یا نااہلی کا فیصلہ کرے گا۔ جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے گیارہ جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

جسٹس گلزاراحمد سے پہلے جسٹس ریٹائرڈ اعجازافضل خان کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی تھی، ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد جسٹس گلزار احمد بنچ کے سربراہ بنے۔

استغاثہ کی جانب سے پیمرا کے ڈائریکٹر، صحافی اور نجی ٹی وی کے پروگرام پروڈیوسر کو گواہ کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔

طلال چوھدری نے پہلے عاصمہ جہانگیر کو وکیل کیا تھا تاہم عاصمہ جہانگیر کی وفات کے بعد  کامران مرتضی کی خدمات حاصل کی گئی تھیں۔

سابق وزیرمملکت برائے داخلہ نے سابق ایم این اے سمیت متعدد افراد کو عدالت میں اپنے گواہ کے طور پر پیش کیا ہے۔

طلال چوہدری کیس:

طلال چوہدری کو رواں برس فروری میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نےعدلیہ مخالف تقاریر کرنے پر توہین عدالت کا از خود نوٹس جاری کیا تھا جب کہ 15 مارچ کو ان پر فرد جرم عائد کی گئی تھی۔ طلال چوہدری کے وکیل کو گیارہ جولائی تک دلائل مکمل کرنے کا حکم دیا گیا تھا اور عدالت نے گیارہ جولائی کو ہی کیس کا فیصلہ بھی محفوظ کرلیا تھا۔

طلال چوہدری کے خلاف 24 اور 27 جنوری کی تقریروں میں عدالت مخالف الفاظ استعمال کرنے کے الزامات ہیں۔

ماضی میں اس سے ملتے جلتے مقدمات میں سپریم کورٹ آف پاکستان ن لیگی رہنما نہال ہاشمی کو توہین عدالت کے جرم میں ایک ماہ قید اور 50 ہزار جرمانے کے علاوہ پانچ سال تک عوامی عہدہ سنبھالنے کے لیے نا اہل قرار دے چکی ہے۔

عدالت عظمیٰ نے ن لیگی رہنما دانیال عزیز کو بھی توہین عدالت کیس میں پانچ سال کے لیے نا اہل قرار دیا ہے۔


متعلقہ خبریں