برطانیہ کے سب سے چھوٹے پرائمری اسکول کو بالآخر بند کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے، جہاں طالبعلموں کی تعداد کم ہو کر صرف دو رہ گئی تھی، حکام کے مطابق مسلسل کم ہوتی داخلہ شرح اور بڑھتے اخراجات کے باعث اسکول کو چلانا ممکن نہیں رہا تھا۔
برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق نارتھ ویلز کے علاقے گوائنیڈ میں واقع گاؤں گیرگ کے پرائمری اسکول میں کبھی 17 طالبعلم زیر تعلیم تھے۔
تاہم گزشتہ دو برسوں کے دوران طالبعلموں کی تعداد میں 90 فیصد سے زائد کمی واقع ہوئی اور اب صرف دو بچے باقی رہ گئے ہیں، جو گرمیوں کی تعطیلات کے بعد اسکول چھوڑنے والے ہیں۔
کونسل حکام نے بتایا کہ اسکول کو برقرار رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی، لیکن صورتحال اس نہج پر پہنچ چکی تھی کہ ادارے کو مزید چلانا معاشی طور پر ممکن نہیں رہا۔
تعلیم کے شعبے میں بڑی پیش رفت، پنجاب جامعات کا بجٹ 25 ارب روپے تک بڑھا دیا
رپورٹ کے مطابق اس اسکول میں فی طالبعلم سالانہ اخراجات 21 ہزار 471 پاؤنڈ تک پہنچ گئے تھے، جبکہ ملک بھر میں فی طالبعلم اوسط خرچ تقریباً 5 ہزار 998 پاؤنڈ ہے۔
نارتھ ویلز کی مقامی کونسل سینگور گوائنیڈ کی کابینہ نے متفقہ طور پر 31 اگست سے اسکول بند کرنے کے حق میں ووٹ دیا۔
کابینہ رکن ڈیوی جونز نے فیصلے کو انتہائی مشکل قرار دیتے ہوئے کہا کہ نصف صدی سے زائد عرصے تک مقامی کمیونٹی کی خدمت کرنے والے اس ادارے کی بندش افسوسناک ہے۔
انہوں نے اسکول کے عملے، گورنرز، والدین اور مقامی آبادی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ بدلتے حالات اور مسلسل کم ہوتی طلبہ تعداد کے باعث یہ فیصلہ ناگزیر ہو چکا تھا۔
