وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ افواجِ پاکستان نے اپنے سے 5 گنا بڑے دشمن کو شکست دی، ہمارے جوانوں کی قربانیاں ضرور رنگ لائیں گی۔
قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ ہمارے جوان قربانیاں دے رہے ہیں، بچے یتیم ہو رہے ہیں، افغانستان سے دہشتگردی کے مسئلے پر پوائنٹ سکورنگ نہیں ہونی چاہئے، ہمارے جوان ان کے ہاتھوں شہید ہو رہے ہیں جن کی برسوں میزبانی کی۔
انہوں نے کہا کہ ایوان میں ایک دوسرے پر بے بنیاد الزام تراشی نہیں ہونی چاہئے، ایوان کا تقدس کسی صورت پامال نہیں ہونا چاہئے، پاکستان کو بڑی سفارتی کامیابی حاصل ہوئی، ایران ، امریکا معاہدے سے پاکستان کے وقار میں مزید اضافہ ہوا، پاکستان نے سفارتی کوششوں کو کامیابی سے ہمکنار کیا، ایران پر پابندیوں میں نرمی پاکستان اور بلوچستان کیلئے فائدہ مند ہو گی۔
قومی اسمبلی اجلاس؛ خواجہ آصف نے پی ٹی آئی اراکین کو آڑے ہاتھوں لے لیا
خواجہ آصف نے کہا کہ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا، پاکستان کا نام اونچا ہونا سب پاکستانیوں کیلئے باعث فخر ہے، مودی بھی صدر ٹرمپ کو مبارکباد دے رہا تھا، مودی میں ہمت نہیں کہ پاکستان کا شکریہ ادا کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کے ساتھ دہشتگردی کے معاملے پر مذاکرات کیے، قطر اور ترکیہ کے ذریعے بھی مذاکرات ہوئے لیکن نتیجہ خیز ثابت نہ ہو سکے۔ اسد قیصر کے گھر جنرل فیض کے بھیجے لوگوں کے ساتھ مذاکرات ہوتے تھے۔ میں خود 2 بار افغانستان گیا،میرے ساتھ اس وقت ڈی جی آئی ایس آئی تھے۔
انہوں نے کہا کہ افغان قیادت کےساتھ متعدد ملاقاتیں نتیجہ خیزثابت ہوئیں، ہم سب کرنے کو تیار تھے لیکن افغان قیادت ضمانت دینے کو تیار نہیں تھی، افغانستان نے ہم سے 10 ارب روپے مانگا جو ہم دینے کو تیار بھی تھے، افغان قیادت ہمیں تحریری طور پرضمانت نہیں دیتی تھی۔
افغانستان کے ذریعے پاکستان کے خلاف جنگ لڑی جا رہی ہے، خواجہ آصف
خواجہ آصف نے کہا کہ ہماری سرزمین کے سواپوری دنیا میں امن قائم ہو رہا ہے، بلوچستان میں قیام امن کیلئے ہم سب کومل کر کام کرنا ہو گا، بلوچستان میں اگر آج سڑکیں محفوظ نہیں تو یہ بھی اس ایوان کی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کا منبع افغانستان ہے، دہشتگردوں سے بات کرنے کا کہا جاتا ہے، مگر کوئی ضمانت تو دے، امریکا سمیت سب ہمیں استعمال کر کے چلے گئے اور خمیازہ ہم بھگت رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ آج غیر ملکی سرمایہ سے چلنے والی تنظیم مہاجرین کی نشستوں پر ہمیں بلیک میل کر رہی ہے ، کشمیر الیکشن ہونے دیں پھر فیصلہ کر لیں مہاجرین کی سیٹوں کا کیا کرنا ہے۔
