کالعدم قرار دی گئی جموں کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی (جیک) کے مظاہرین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے درمیان تصادم کے بعد آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں مکمل شٹر ڈاؤن اور مواصلات و ذرائع نقل و حمل بند ہیں۔
میرپور ڈویژن میں ہم نیوز کے نمائندوں کے مطابق کوٹلی اور میرپور شہر میں ہر قسم کے بازار اور دکانیں بند ہیں۔ ان کے مطابق ضلع کوٹلی کے کچھ علاقوں میں موبائل سروس بحال نہیں تاہم ضلع میرپور اور بھمبر میں الیکشن سے دو روز قبل بحال کیا گیا انٹرنیٹ سست رفتار سے چل رہا ہے۔
اس بات کی بازگشت آج ہونے والے قانون ساز اسمبلی آزاد جموں وکشمیر کے اجلاس میں بھی سنائی دی۔ ممبر اسمبلی نثارہ عباسی نے ٹیلی کام اور “موبائل نیٹ ورکس کی ناقص سروس” بارے توجہ دلاؤ نوٹس ایوان میں پیش کیا جس پر سپیکر نے رولنگ دی کہ اسمبلی سیکرٹریٹ سے مکتوب لکھا جائے۔ توجہ دلاؤ نوٹس پر ممبر اسمبلی خواجہ فاروق احمد نے کہا کہ عام آدمی اور باالخصوص طلبہ اور آن لائن کام کرنے والے “ناقص سروس” کیوجہ سے دشواری میں مبتلا ہیں۔
خطے میں انٹرنیٹ سروس 5 جون کو ایکشن کمیٹی کو کالعدم قراردینے کے بعد معطل کی گئی تھی جس کے 45 روز بعد صرف میرپور ڈویژن میں سروس بحال کی گئی۔ گزشتہ شب سے مواصلاتی نظام کی معطلی پر انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی گئی تاہم اس خبر کی اشاعت تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا، جبکہ اس بارے میں حکومت نے تاحال کوئی باضابطہ اعلامیہ یا بیان بھی جاری نہیں کیا۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر میں انتخابات اور تصادم ایک ساتھ؛ 3 اہلکاروں سمیت متعدد جاں بحق
دریں اثنا، حکومت اور اتنظامیہ کے نمائندوں نے کالعدم ایکشن کمیٹی پر فتنہ الخوارج کے ایجنڈے پر کام کرنے کے الزامات لگاتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے ساتھ مظاہرین کا لبادہ اوڑے دہشت گرد موجود ہیں۔ وفاقی وزرا نے مختلف اوقات میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان دشمن ایکشن کمیٹی بھارتی ایجنڈے پر عمل پیرا ہے اور الیکشن کو سبوتاژ کر کے جمہوری عمل کو ڈی ریل کرنا چاہتی ہے۔
آزاد کشمیر پولیس کے ترجمان ریاض مغل نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ مظاہرین کے پاس جدید ہتھیار ہیں اور وہ گھات لگا کر پولیس اور رینجرز اہلکاروں کو نشانہ بناتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سفید جھنڈے اٹھا کر غیر مسلح اور پر امن ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، ان سے پوچھیں کہ انہیں خنجر کیا ہم نے دیے، جن سے انہوں نے سینکڑوں پولیس اہلکاروں کو زخمی کیا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ مسلح افراد اپنے ہی لوگوں کو گولیوں سے ہلاک اور زخمی کر کے الزام پولیس اور اداروں پر لگاتے ہیں۔ “اگر پولیس کسی کو مارنا چاہے تو ایک منٹ میں ہزاروں لاشیں گر سکتی ہیں، ہم صرف ان کو ٹارگٹ کرتے ہیں ہم پر وار کرتے ہیں۔”
ترجمان کا کہنا تھا کہ وہ خود ایکشن کمیٹی کے تشدد کا نشانہ بنے تھے۔ انہوں نے ہمارے اہلکاروں کو شہید کیا، اور سینکڑوں کو شدید زخمی کیا۔ 2024 اور 2025 میں زخمی کیے گئے کئی اہلکار ٹوٹی ریڑھ کی ہڈی، ٹانگ، اور بازو کیساتھ آج بھی بستروں پر پڑے ہوئے ہیں۔
دوسری جانب راولاکوٹ میں موبائل سروس بھی گزشتہ رات سے معطل ہے۔ شہر کے ساتھ بیشتر دیہی علاقوں میں بجلی بھی بند ہے جبکہ ڈویژن میں تمام چھوٹے بڑے بازار اور دکانیں بھی مکمل بند ہیں۔
مزید پڑھیں: آزاد کشمیر کی تین میں سے ایک ڈویژن میں الیکشن، باقی میں لانگ مارچ کا شوشہ
یہ اقدامات گزشتہ دو روز سے راولاکوٹ اور میرپور میں جیک کے مظاہرین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تصادم کے بعد سامنے آئے جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیلا ہوا ہے جبکہ تصادم کے نتیجے میں 30 کے قریب اموات بھی ہو چکی ہیں۔
ان رپورٹس پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے ایمنسٹی انٹرنیشنل نے واقعات کی فوری اور غیر جانبدارانہ تحقیق کرانے کے ساتھ ساتھ خطے میں موبائل اور انٹرنیٹ سروس بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ایمنسٹی نے الیکشن 27 جولائی کو ہونے والے الیکشن کے پہلے مرحلے سے قبل بھی انٹرنیٹ سروس کی بحالی اور گرفتار مظاہرین کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔
مزید برآں، ملکی اور غیر ملکی شخصیات نے بھی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مسائل کے پرامن حل تلاش کرنے پر زور دیا ہے۔
برطانوی ارکان پارلیمنٹ ناز شاہ اور عمران حسین نے صورتحال کو قابو کرنے، اشتعال کم کرنے، اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کو حل کرنے کی اپیل کی ہے۔
یہ ہر بار دھاندلی سے وزیراعظم اور وزیر اعلیٰ بنتے ہیں ، کشمیر میں ایسا نہیں ہونے دینگے ، بلاول
ناز شاہ نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا ہے کہ وہ مسائل کے پرامن حل کے لیے وفاق اور کشمیر میں حکومتی نمائندوں سے بات کریں گی جبکہ عمران حسین نے ویڈیو پیغام میں اپیل کی ہے کہ انسانی حقوق مقدم ہیں، مظاہرین کیساتھ بات چیت کا راستہ اختیار کیا جانا چاہیے۔
اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی محمود اچکزئی، جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان، سینیٹر مشتاق، اور امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے بھی کشیدگی کم کرنے اور معاملے کو سیاسی اور جمہوری طریقوں سے حل کرنے کی بات کی ہے۔
یادرہے کہ کشمیر میں ایکشن کمیٹی 2023 میں 38 مطالبات پر مشتمل ایک چارٹر آف ڈیمانڈ کیساتھ سامنے آئی، جس کے بیشتر مطالبات بشمول آٹے اور بجلی کی قیمتوں میں کمی کو حکومت نے مئی 2024 میں کیے گئے لانگ مارچ کے بعد منظور کر لیا تھا۔ باقی کے مطالبات کی منظوری تعطل کا شکار تھی جن میں اشرافیہ کی مراعات کا خاتمہ، الیکشن اصلاحات، اور مہاجروں کی 12 نشستوں کا خاتمہ شامل ہیں۔
ان مطالبات کی منظوری سمیت دیگر نئے مطالبات بشمول کمیٹی کو کالعدم قرار دیے جانے کا فیصلہ واپس لینے کے لیے 27 جولائی کو راولاکوٹ سے مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا آغاز کیا گیا تھا جو تصادم کی وجہ سے آگے نہ بڑھ سکا۔
