پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کا مقابلہ کوئی سیاسی جماعت نہیں کر سکتی ، ان کا مقابلہ ایسی جماعت سے ہے جو دھاندلی کی پیداوار ہے۔ یہ ہر بار دھاندلی سے وزیراعظم اور وزیر اعلیٰ بنتے ہیں۔
مظفر آباد میں ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ پیپلز پارٹی تین نسلوں سے مسئلہ کشمیر کا مقدمہ لڑ رہی ہے، جبکہ ایک سیاسی جماعت نسل در نسل دھاندلی کے ذریعے اقتدار میں آتی رہی ہے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ یہ تیسری بار وزیراعظم آر او الیکشن کی وجہ سے بنے۔ جبکہ پیپلز پارٹی مخالفین کی مبینہ دھاندلی کے باوجود عوامی حمایت سے اقتدار میں آتی ہے۔
ووٹ کی گنتی جو بھی ہو پیپلز پارٹی اکثریت سے جیت چکی،بلاول بھٹو
بلاول بھٹو نے کہا، “یہ مظفرآباد ہے، سری نگر نہیں، یہاں دھاندلی نہیں ہونے دیں گے۔” یہ لوگ “فارم 47” کی بنیاد پر اقتدار میں بیٹھے ہیں ، وفاقی حکومت کی ناکام پالیسیوں کے باعث کشمیری عوام ان سے نفرت کرتے ہیں۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا کہ اگر وہ دھاندلی میں ملوث نہیں تو انتخابی بے ضابطگیوں کی تحقیقات کرائے۔ اگر سیاسی میدان میں شکست ہوئی تو وہ اسے قبول کریں گے، لیکن “چوری شدہ نتائج” ہرگز قبول نہیں کریں گے۔
بلاول بھٹو نے اسٹیک ہولڈرز پر زور دیا کہ سچ اور مفاہمت کمیشن قائم کیا جائے تاکہ تمام حقائق سامنے آ سکیں۔ “اگر سچ اور مفاہمت کمیشن بن گیا تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا، احتجاج بھی ختم ہو جائے گا۔”
کشمور ہو یا کشمیر، کوئی بھی اپنے حق پر کسی کو ڈاکا نہیں ڈالنے دے گا، بلاول بھٹو
انہوں نے کہا کہ وہ مبینہ طور پر “چوری شدہ نشستیں” واپس دلانے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے اور سچ اور مفاہمت کمیشن کے قیام کے لیے تیار ہیں۔
بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ کشمیر کا فیصلہ کشمیری ہی کریں گے، کوئی اور صوبہ نہیں کر سکتا۔
