ایران نے جنگ کے خاتمے کے لیے امریکا سے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی خبروں کی تردید کر دی۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ہم نے امریکا کیساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی کوئی درخواست نہیں کی۔ جنگ اور امن کا فیصلہ ایران خود کرے گا۔
اسماعیل بقائی نے پریس بریفنگ میں کہا کہ امریکا جب بھی عالمی توانائی کی قیمتیں بڑھتی دیکھتا ہے تو مذاکرات کی میز پر واپس آ جاتا ہے، اسرائیل مشرق وسطیٰ کے ممالک کے جدید ٹیکنالوجی کے حصول میں ہر ممکن رکاوٹ پیدا کرتا ہے، پرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کا استعمال ہر ملک کا حق ہے۔
اسماعیل بقائی کا مزید کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتحال میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور یہ اب بھی بند ہے، ایران اور عمان کے درمیان جاری مذاکرات کا امریکا سے کوئی تعلق نہیں۔
ایران کا یوکرین کو تجارتی جہاز پر حملے کا جواب دینے کا اعلان
اس سے قبل عرب میڈیا کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایران نے پاکستان کو آگاہ کیا ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ جنیوا، دوحہ یا اسلام آباد میں مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔
العربیہ انگریزی کے مطابق ذرائع نے کہا کہ ایران نے پاکستان کو یقین دہانی کرائی کہ وہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت مذاکراتی عمل جاری رکھنے کا خواہاں ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایران چاہتا ہے کہ مذاکرات تین مراحل میں کیے جائیں۔ پہلے مرحلے میں آبنائے ہرمز سے متعلق معاملات، دوسرے مرحلے میں ایران کے منجمد اثاثوں اور تیسرے مرحلے میں جوہری پروگرام پر بات چیت کی جائے۔
ذرائع کے مطابق ایران نے پاکستان کو یہ بھی آگاہ کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کے متبادل کسی نئی راہداری کی تجویز کو مسترد کرتا ہے۔
واضح رہے کہ امریکا اور ایران نے 17 جون 2026 کو اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے تھے، جس کے بعد سوئٹزرلینڈ میں دونوں ممالک کے اعلیٰ سطحی وفود کے درمیان کئی دہائیوں بعد براہ راست مذاکرات ہوئے۔ بعد ازاں مذاکرات کا دوسرا دور قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہوا، جبکہ تیسرا دور اسلام آباد میں ہونا تھا۔
مجوزہ تیسرے دور سے قبل دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر حملے شروع کر دیئے اور مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کرتے ہوئے مذاکراتی عمل تعطل کا شکار ہو گیا۔
