وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کو مذاکرات کی ناکامی کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ 9 مئی کو دہرانے نہیں دیں گے۔
لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم سے تفصیلی ملاقات ہوئی، صدر آصف زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف دونوں تمام معاملات سے بخوبی واقف ہیں، دونوں کو تمام معاملات پر بریفنگ دی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات کیے، بدقسمتی سے ان کی پارٹی (پی ٹی آئی) نے اور بالخصوص ان کے وزیر اعلیٰ (سہیل آفریدی) نے مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی، جب مذاکرات فائنل ہو گئے تو اچانک انہوں نے معاہدہ کرنے سے انکار کردیا۔
محسن نقوی کا کہنا تھا کہ فائنل معاہدہ وزیراعظم کو دکھا کر واپس آیا تو سہیل آفریدی نے بہت تبدیلیوں کا کہہ دیا، ایک دو چیزوں پر اختلاف تھا لیکن 99 فیصد اتفاق ہو گیا تھا، جسے تبدیل کرنے کا کہا گیا، کل 12 گھنٹے کے مذاکرات میں 4 بار ڈرافٹ فائنل ہوا اور 4 بار تبدیل کیا گیا، راجا ناصر عباس اور دیگر سینیئر ممبران کو واضح طور پر خراب کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ اگر فیصلے سہیل آفریدی کو ہی کرنے تھے تو وہ خود مذاکرت میں آجاتے، کل کی میٹنگ میں، میں نے کہا بھی تھا کہ سہیل آفریدی یا ان کے کسی نمائندے کو مذاکرات میں ہونا چاہیے۔
محسن نقوی نے کہا کہ ایک بات ریکارڈ پر لانا ضروری ہے کہ حکومت نے کبھی پی ٹی آئی سے لانگ مارچ ملتوی کرنے کا مطالبہ نہیں کیا، ہم نے مذاکرات ک پہلے دن سے ہی یہ بات واضح کردی تھی لیکن پیپلزپارٹی کا یہ مطالبہ تھا، بلاول بھٹو نے کمیٹی میں شامل اپنے رہنماؤں کو ہدایات دی تھیں کہ لانگ مارچ ختم ہونا چاہیے، اس سے سیاسی کشیدگی ختم ہوگی۔
وزیر داخلہ نے واضح کیا کہ سیاست ہمارا مسئلہ نہیں ہم صرف کے پی میں دہشت گردی پر قابو پانا چاہتے ہیں، ان لوگوں کے سہیل آفریدی سے 4 گھنٹے مذاکرات ہوئے، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے انہیں مینڈیٹ دیا کہ جو وفد فائنل کرے گا اسے منظور کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی سے متعلق پولیس ایکٹ، افغان شہریوں، سابق فاٹا اضلاع، نیشنل ایکشن پلان اور ٹی ٹی پی پر بات چیت کی، ہم نے لانگ مارچ سے متعلق کوئی بات نہیں کی، پیپلز پارٹی نے لانگ مارچ ملتوی کرنے کو مذاکرات میں شامل کیا۔
‘ہمارا مسئلہ سیاست نہیں، کے پی سے دہشتگردی ختم کرنا ہے’
محسن نقوی کا مزید کہنا تھا کہ حکومت کی طرف سے ارکان نے مسلسل 12 گھنٹے کام کیا، پتا ہوتا کہ اس کمیٹی کو کے پی حکومت ویٹو کرے گی تو ایسے مذاکرات نہ کرتے، ایسے نہیں ہوسکتا کہ صوبے میں جنگ ہو رہی ہے اور وزیراعلیٰ اور صوبائی وزرا فوج کے خلاف بیانات دے رہے ہیں، شہدا کے جنازوں پر نہیں آرہے، اس وقت سب سے ضروری کے پی میں پھیلنے والی دہشت گردی کو روکنا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا میرے فائنل ڈرافٹ لے کر جانے کے بعد سرگرم ہوگئے، رات 9 بجے کے بعد ساڑھے 12 بجے تک انہوں نے ڈرافٹ بالکل تبدیل کردیا، دہشت گردی کے معاملے پر ان کی ٹیم نہیں ان کے لوگوں نے بات کرنے سے انکار کردیا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی مذاکراتی ٹیم کا ہمارے سامنے مثبت رویہ تھا لیکن جب دوسرے کمرے میں جاکر وہ لوگ (سہیل آفریدی) سے بات کرتے تو ان کا رویہ انتہائی مختلف ہوجاتا تھا، جب ایک لڑکا، ناسمجھ اور امیچور لوگ سیٹوں پر بیٹھتے ہیں تو یہ ہی نتیجہ نکلتا ہے، ماضی میں بھی ناتجربہ کار وزیراعلیٰ سے صوبے اور ملک کو نقصان پہنچا۔
‘ ذمہ داری نہیں لے سکتے تو وزارت اعلیٰ چھوڑ دیں’
محسن نقوی نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ مذاکرات ختم ہو گئے، ہم نے انہیں بتادیا تھا کہ لانگ مارچ شروع ہوا تو مذاکرات ختم سمجھیں، ہم کسی صورت 9 مئی کو دہرانے نہیں دیں گے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم کی خلاف ورزی نہیں ہونے دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے ناکام ہونے کے ذمہ دار صرف وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی ہیں۔
محسن نقوی نے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا پر بلیک میلنگ کے الزام سے متعلق صحافی کے سوال پر کہا کہ بلیک میل کرنا چھوٹی بات ہے، وہ (سہیل آفریدی) اپنے صوبے کے ساتھ زیادتی کررہے ہیں، اگر وہ عوامی نمائندے ہیں اور ان کے صوبے میں جنگ ہورہی ہے تو ان کو ذمہ داری لینی چاہیے، اگر ذمہ داری نہیں لیتے تو وزارت اعلیٰ چھوڑ دیں۔
محسن نقوی نے واضح کیا کہ سیاسی لوگ لانگ مارچ کرکے توہین عدالت کے مرتکب ہوں گے، ہم ہر حد تک ان کے خلاف قانونی کارروائی کریں گے،اس دھرنے کے لیے اکٹھے ہونے والوں کا جیسا ٹرائل ہونا چاہیے۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ ہم نے انہیں احتجاج کرنے کی کھلی اجازت دی، واضح کیا کہ اسلام آباد پر دھاوا بولنے کی کسی کو اجازت نہیں دیں گے،اس دفعہ ہم اسلام آباد پر بار بار دھاوا بولنے والا معاملہ ہمیشہ کے لیے ختم کردیں گے،
اگر لانگ مارچ شروع کردیا ہے تو خلاف ورزی کرنے والے کو کسی بھی صورت نہیں جانے دیں گے، اگر میں اپنے صوبے کی ذمہ داری نہیں لوں گا تو میں وزیراعلیٰ کیسے ہو سکتا ہوں؟اپنے صوبے میں دہشتگردی کے خلاف جنگ کا میں حصہ نہ ہوں تو مجھے وزیراعلی نہیں ہونا چاہیے۔
‘مقامی سطح پر ان کی پارٹی دہشتگردوں کو سپورٹ کررہی ہے’
محسن نقوی کا کہنا تھا کہ وزیراعظم اور صدر کوایسا آپشن استعمال کرنے کی کوئی خواہش نہیں تھی، وہ ہر ممکن مذاکرات کامیاب کرنے کی فکر میں تھے، اب جو بھی صورتحال ہوگی وہ صدر اور وزیراعظم مل کر فیصلہ کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری ساری ٹیم نے 2 دن تک نیک نیتی سے مذاکرات کامیاب کرنے کی کوشش کی، ہم ہر رکاوٹ پر کہتے تھے کہ اسے حل کرلیتے ہیں۔
وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ آپ جانتے ہیں کہ ان(پی ٹی آئی) کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر کیا چل رہا ہے؟ وہ جتھے کے ساتھ تیاری کررہے ہیں، ہم ان کی نچلے لیول پر مانیٹرنگ کررہے ہیں، ان کو ان کی ناتجربہ کاری خراب کررہی ہے جو عام سیاستدان میں نہیں ہوتی، اگر یہ چاہتے ہیں کہ پاور بھی انجوائے کریں اور دھونس دھمکی بھی کریں تو یہ نہیں ہوسکتا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اطلاعات ہیں کہ مقامی سطح پر ان کی پارٹی دہشت گردوں کو سپورٹ کررہی ہے، ہم نے ان سے کہا کہ وہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں سے لاتعلقی کا اعلان کریں، لیکن ان کی سوچ اور ذہنیت اور انٹرسٹ کچھ اور لوگوں کے ساتھ ہیں۔
وزیر اعظم سے ملاقات، صدر زرداری سے رابطہ
قبل ازیں پریس کانفرنس سے قبل محسن نقوی نے لاہور میں وزیر اعظم شہباز شریف سے دوسری بار ملاقات کی تھی، محسن نقوی نے وزیراعظم کو پی ٹی آئی احتجاج اور سیاسی صورتحال پر بریف کیا۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف سے ملاقات کے بعد کی صورتحال پر بھی محسن نقوی سے تبادلہ خیال کیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ گلبرگ میں محسن نقوی کی رہائش گاہ پر ہونیوالی ملاقات میں خیبرپختوا میں سیاسی صورتحال، پی ٹی آئی احتجاج اور امن و امان کی صورتحال پر تفصیلی بات چیت ہوئی ہے ۔ اس دوران وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے صدر آصف علی زرداری سے بھی رابطہ کیا ہے جس میں ملکی سیاسی صورتحال پر گفتگو ہوئی۔
ترجمان وزارت داخلہ کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا صدر مملکت آصف علی زرداری سے بھی ٹیلیفونک رابطہ ہوا، وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے صدر آصف علی زرداری کو اہم معاملات پر بریفنگ دی۔
خیبر پختونخوا حکومت اپنے وعدوں سے پیچھے ہٹ گئی
قبل ازیں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں الزام عائد کیا تھا کہ خیبر پختونخوا حکومت مذاکرات کے آخری مرحلے میں اپنے وعدوں سے پیچھے ہٹ گئی.
محسن نقوی نے اپنے بیان میں کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت 72 گھنٹوں میں تحریری معاہدہ اور عملدرآمد کا منصوبہ دینے پر رضامند ہوئی تھی، پولیس ایکٹ 2026 پر سکیورٹی صورتحال کے تناظر میں نظرثانی پر اتفاق کیا گیا تھا، کے پی حکومت نے صوبے میں دہشتگردوں کو محفوظ ٹھکانے نہ دینے کی یقین دہانی کرائی تھی۔
حکومت اور اپوزیشن کے درمیان طویل مذاکرات کسی نتیجے کے بغیر ختم ہو گئے ہیں، حکومت اور اپوزیشن کے درمیان گزشتہ روز 4 بجے شروع ہونے والے مذاکرات رات تقریباً ڈھائی بجے تک جاری رہے مگر مسودے پر اتفاق نہیں ہو سکا۔ دونوں فریقین نے مذاکرات کی ناکامی کا ذمے دار ایک دوسرے کو قرار دیا۔
محسن نقوی کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا حکومت نے ٹی ٹی پی، ٹی ٹی اے اور دیگر دہشتگرد گروہوں کی مذمت پر اتفاق کیا تھا، اس کے علاوہ نے افغان مہاجرین کے حوالے سے بنائی گئی قومی پالیسی کی مکمل حمایت، افغان مہاجرین کے کیمپوں کے خاتمے اور ان کی وطن واپسی کے اقدامات پر رضامندی ظاہر کی تھی۔
The KP Government had agreed to sign a written agreement and submit an implementation plan within 72 hours, covering
• Reconsideration of the Police Act 2026 in light of the security situation and the need to protect security matters from political interference
• Preventing terrorists from operating freely or finding safe havens in the province
• Unequivocal condemnation of TTP/TTA and all other terrorist groups
• Support for the national policy on Afghan refugees, including repatriation and dismantling Afghan camps in KP
• No contact with the Interim Afghan Government
• Substantial funding for counterterrorism operations and the police
• Full provincial ownership of counterterrorism measures and stronger cooperation with the Armed Forces
• Decisions on counterterrorism in the former FATA and merged districts
• Implementation of the National Action PlanLast night, during the final phase of negotiations, the KP Government backed out of these commitments. Security must not be politicised while the province is at War
— Mohsin Naqvi (@MohsinnaqviC42) October 4, 2026
وزیر داخلہ نے کہا کہ مذاکرات کے دوران انسداد دہشتگردی اور پولیس کے لیے خاطر خواہ فنڈز مختص کرنے کے علاوہ کے پی حکومت نے مسلح افواج کے ساتھ انسداد دہشتگردی تعاون بڑھانے اور سابق فاٹا اور ضم شدہ اضلاع میں انسداد دہشتگردی فیصلوں پر اتفاق کیا تھا۔



