ستمبر کے مہینے میں افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ کی جانب سے طالبان رجیم کے خلاف 68 کارروائیوں کے دوران 102 افغان اہلکار ہلاک جبہ 48 زخمی ہوئے۔
ایک ہفتہ قبل افغانستان فریڈم فرنٹ نے نورستان اور کنڑ میں طالبان رجیم کی متعدد چوکیوں پر قبضے اور 17 طالبان کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ افغان انٹرنیشنل کے مطابق تازہ لڑائی اس وقت شروع ہوئی جب طالبان نے افغانستان فریڈم فرنٹ کی پوسٹوں پر قبضے کی کوشش کی۔
افغان میڈیا افغان انٹرنیشنل کے مطابق افغانستان میں طالبان رجیم کے خلاف مزاحمتی حملوں کا دائرہ وسیع ہو گیا، جہاں مختلف صوبوں میں کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
مزاحمتی تنظیموں افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ ، نیشنل ریزسسٹنس فرنٹ اے یو ایف، این آر ایف اور نیشنل انڈیپنڈنس فرنٹ کی حالیہ کارروائیوں میں طالبان رجیم کے 23 اہلکار ہلاک اور 15 زخمی ہوئے ہیں۔
زیادہ کارروائیاں قندہار اور ہلمند میں کی گئیں
گروپ کے مطابق اس کی زیادہ تر کارروائیاں افغانستان کے جنوبی صوبوں، بالخصوص قندھار اور ہلمند میں ہوئی ہیں۔
مزاحمتی تنظیموں کی کارروائیوں میں متعدد چوکیاں، گاڑیاں اور انٹیلی جنس مراکز بھی متاثر ہوئے، مزاحمتی گروپوں نے طالبان رجیم کے عسکری اور انٹیلی جنس ڈھانچے کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ نے ایک ویڈیو جاری کرتے ہوئے قندھار کے ارغنداب ضلع کے سربند علاقے میں طالبان کے خلاف کارروائی کا دعویٰ کیا ہے۔ گروپ کے مطابق کارروائی میں طالبان کا ایک پولیس اہلکار ہلاک ہوا تاہم طالبان حکام کی جانب سے اس دعوے پر تاحال کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا۔
خیال رہے سابق افغان فوجی کمانڈر سمیع سادات کی قیادت میں افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ نے یکم اگست کو اعلان کیا تھا کہ اس نے طالبان اور افغانستان میں موجود دیگر دہشت گرد گروہوں کے خلاف فوجی کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔
افغانستان خانہ جنگی میں داخل ہو چکا
دوسری جانب جھڑپوں کے حوالے سے افغانستان کے سابق نائب صدر امراللہ صالح کا کہنا ہے کہ افغانستان خانہ جنگی میں داخل ہو چکا ہے، فی الحال یہ تنازع محدود ہے، لیکن مستقبل میں مزید پرتشدد اور تباہ کن تصادم کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
ایک انٹرویو میں امراللہ صالح نے طالبان کی حکمرانی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ طالبان کی مخالفت مختلف شکلوں میں سامنے آ رہی ہے، جن میں مسلح حملے اس مخالفت کا سب سے نمایاں اظہار ہیں۔
امراللہ صالح کے مطابق طالبان کی حکمرانی میں افغانستان قومی خودمختاری اور جائز ریاستی نظام سے محروم ہے، جس کے ملک بھر میں سنگین اثرات مرتب ہوئے ہیں۔



