ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے کہا کہ ثالث ممالک نے تہران کو اہم پیغامات پہنچائے ہیں، ایران سفارتکاری اور دفاعی حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہے۔
تہران میں پریس بریفنگ کے دوران اسماعیل بقائی نے کہا کہ جنگ یا سفارتکاری میں سے کسی ایک کا انتخاب ضروری نہیں،
سفارتکاری بھی قومی مفادات کے حصول کا اہم ذریعہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران پر امریکی حملے بلاجواز ہیں اور مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی ہیں، طبی مراکز، واٹر پلانٹس اور پلوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں۔
ترجمان ایرانی وزارت نے کہا کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات سے دستبردار نہیں ہوں گے، امریکا سے مذاکرات قومی مفاد کو سامنے رکھ کر کئے جائیں گے۔
ایران وینزویلا نہیں ، برتری حاصل ہونے پر امریکا کیساتھ جنگ ختم کریں گے ، عباس عراقچی
دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے آسیان اجلاس کے لیے فلپائن روانگی کے موقع پر کہا کہ ایران کے ساتھ تنازع کے حل کے لیے امریکا سفارت کاری کے لیے ہمیشہ تیار ہے لیکن سفارتکاری حقیقی ہونی چاہیے۔
امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اگر ایران کسی مفاہمت کی شرائط کی خلاف ورزی کر رہا ہے تو وہ معاہدہ مؤثر نہیں رہ سکتا ، امریکا نے ایران کے ساتھ کئی بار سفارتکاری کی کوشش کی اور یہ کوشش جاری رکھیں گے۔ سفارتی کوششیں ناکام ہوئیں تو صورتحال تہران کے حق میں نہیں ہو گی۔
مارکو روبیو نے کہا کہ ایران اس وقت شدید معاشی بحران سے دوچار ہے۔ امریکی فوجی حملے تجارتی جہازوں کے جواب میں ہیں۔ ایران کی جانب سے مذاکرات کی خواہش کے اشارے مل رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز کو بطور دباؤ استعمال کر رہا ہے، امریکا عالمی جہاز رانی کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات اٹھاتا رہے گا لیکن دیگر ممالک کو بھی آگے آکر بوجھ بانٹنا ہو گا، چاہے وہ عسکری سازوسامان کی فراہمی ہو یا مالی معاونت کی۔
