ایران کی کرنسی ریال کی قدر میں کمی سلسلہ جاری رہا، ایرانی کرنسی امریکی ڈالر کے مقابلے میں نئی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے جبکہ مرکزی بینک نے دباؤ کا شکار معیشت کو سہارا دینے کے لیے 2 ارب ڈالر تک کی رقم مارکیٹ میں فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق آزاد مارکیٹ میں ہفتے کو ڈالر تقریباً 26 لاکھ 88 ہزار ایرانی ریال میں فروخت ہوا، جو ایک روز قبل 26 لاکھ 32 ہزار ریال تھا۔
ایک دوسرے کرنسی ٹریکنگ پلیٹ فارم کے مطابق ڈالر کی قیمت 26 لاکھ 95 ہزار ریال تک پہنچ گئی۔ اس طرح ایک ہی دن میں ایرانی کرنسی کی قدر میں مزید نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔
ریال اپنی قدر کا نصف سے زیادہ حصہ کھو چکا
رائٹرز کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران ریال اپنی قدر کا نصف سے زیادہ حصہ کھو چکا ہے، جبکہ گزشتہ ہفتے بھی یہ ڈالر کے مقابلے میں 25 لاکھ ریال سے تجاوز کرتے ہوئے نئی ریکارڈ کم ترین سطح پر پہنچا تھا۔
ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق ریاستی بینکوں نے ریال کو سہارا دینے کے لیے 2 ارب ڈالر تک فروخت کرنا شروع کر دیئے ہیں۔
ایران میں افراطِ زر کی شرح 70 فیصد سے تجاوز
ایران میں افراطِ زر کی شرح 70 فیصد سے تجاوز کر چکی ہے، جس کے باعث عام شہریوں کے لیے بنیادی ضروریات اور مکان کا کرایہ برداشت کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ امریکی ناکا بندی کے باعث ایران کی مالی آمدن کا اہم ذریعہ یعنی تیل کی برآمدات بھی متاثر ہو رہی ہیں۔
اپنی بچت کو محفوظ رکھنے کے خواہش مند بہت سے ایرانی شہری ڈالر، دیگر مضبوط غیر ملکی کرنسیوں یا سونے کی خریداری کر رہے ہیں۔
مرکزی بینک کے گورنر کے معاون برائے زرمبادلہ امور مہدی دارابی نے سرکاری ٹی وی سے گفتگو میں کہا کہ ریال کی قدر میں کمی کی ایک وجہ امریکی حکام کی جانب سے ایرانی معیشت کے تباہ ہونے سے متعلق مبینہ غلط پیش گوئیوں کو قرار دیا۔


