ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت کی بحالی کے انتظامات ایران خود طے کرے گا۔
عباس عراقچی نے کہا ہے کہ یمن، باب المندب اور خطے کے دیگر تنازعات کا کوئی فوجی حل نہیں، ان مسائل کے حل کے لیے مذاکرات ہی واحد راستہ ہیں۔
سرکاری اخبار ایران ڈیلی کو دیے گئے انٹرویو میں عباس عراقچی نے کہا کہ مفاہمتی یادداشت (MoU) کا آرٹیکل 5 واضح ہے، جس کے تحت آبنائے ہرمز سے ٹرانزٹ کے طریقہ کار کا تعین ایران کرے گا۔
🔴 Iranian Foreign Minister Abbas Araghchi in an interview published today with state-run Iran Daily newspaper:
– There is no military solution to the conflict in Yemen, the Bab al-Mandab, or other regional issues, we call instead for dialogue.
– Article 5 of the Memorandum of… pic.twitter.com/9IJUqoNVPQ
— This Is Beirut (@ThisIsBeirut_) July 25, 2026
انہوں نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے الگ راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ مفاہمتی یادداشت کی شقوں کے مطابق نہیں ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ایران آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کو جنگ سے پہلے کی سطح پر بحال کرنے کے لیے ضروری انتظامات خود طے کرے گا۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایرانی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ یمن، باب المندب اور دیگر علاقائی مسائل کا کوئی عسکری حل موجود نہیں، ان تنازعات کے حل کے لیے سیاسی مذاکرات ہی مؤثر راستہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ باب المندب میں پیش آنے والے واقعات کی جڑیں یمن، سعودی عرب اور خطے کے دیرینہ تنازعات میں ہیں۔
عباس عراقچی نے مزید کہا کہ یمن کی موجودہ صورتحال کی ذمہ داری ایران پر ڈالنا درست نہیں، بلکہ اس مسئلے کو اس کے وسیع تر علاقائی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔
"Iran chose the path of diplomacy and dialogue…but the response to diplomacy came not through negotiation, but through a military attack."
Iranian Foreign Minister Abbas Araghchi accused the United States of undermining diplomacy, warning that Washington's military campaign… pic.twitter.com/QgnA49yjxu
— Global South World (@g_s_world) July 25, 2026
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکہ پر سفارت کاری کو نقصان پہنچانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نے ہمیشہ سفارت کاری اور مذاکرات کا راستہ اختیار کیا، مگر اس کا جواب بات چیت کے بجائے فوجی حملے کی صورت میں دیا گیا۔
عباس عراقچی نے کہا کہ امریکہ کی ایران کے خلاف فوجی کارروائی نہ صرف ایران بلکہ بین الاقوامی قانون اور سفارتی اصولوں کی بنیادوں کے لیے بھی خطرہ بن گئی ہے۔
ایران مذاکرات کیلئے سنجیدہ لیکن ڈیل پر تیار نہیں ، بڑے حملوں کا فیصلہ ابھی نہیں کیا ، ٹرمپ
انہوں نے زور دیا کہ تنازعات کے حل کے لیے طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات اور سفارت کاری ہی مؤثر اور پائیدار راستہ ہیں۔
