بالی ووڈ کے سپر اسٹار عامر خان نے اپنے فلمی کیریئر کے ابتدائی اور مشکل ترین دور کو یاد کرتے ہوئے اہم انکشاف کیا ہے۔
برطانیہ میں بی ایف آئی لندن فلم فیسٹیول میں گفتگو کرتے ہوئے عامر خان نے کہا کہ ایک وقت ایسا بھی آیا جب میں کام سے گھر واپس آ کر رویا کرتا تھا کیونکہ میں اپنے کام سے مطمئن نہیں تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ 1988ء میں فلم قیامت سے قیامت تک کی زبردست کامیابی کے بعد مجھے راتوں رات شہرت تو مل گئی، لیکن میں ان فلم سازوں کے ساتھ کام نہیں کر سکا جن کے ساتھ میں واقعی کام کرنا چاہتا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ابتدائی کامیابی کے بعد میری کئی فلمیں باکس آفس پر ناکام رہیں، جس کے بعد مجھے ون فلم ونڈر کہا جانے لگا۔
عامر خان کا پورے خاندان کو ایک جگہ رکھنے کیلئے بڑا رہائشی منصوبہ
عامر خان نے کہا کہ اس دور میں بالی ووڈ میں اداکار ایک ساتھ کئی فلمیں سائن کرتے تھے، اسی روایت کے تحت میں نے بھی 8 سے 10 فلمیں سائن کیں، جن میں زیادہ تر نئے ہدایتکاروں کی تھیں۔ اسی تجربے نے مجھے فلموں کے انتخاب کا اہم سبق سکھایا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ میں نے بہت جلد یہ سیکھ لیا کہ فلم دراصل ہدایت کار کا ذریعۂ اظہار ہوتی ہے، جب تک آپ کو ہدایت کار پر مکمل اعتماد نہ ہو اور آپ کی سوچ اس سے ہم آہنگ نہ ہو، آپ ایک سمت میں چلتے ہیں لیکن نتیجہ کسی اور سمت میں نکلتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اسی وجہ سے بعد میں میں نے فلم سائن کرنے کے لیے 3 اصول اپنا لیے، مضبوط اسکرپٹ، ہدایت کار پر مکمل اعتماد اور ایسا پروڈیوسر جو تخلیقی وژن کی حمایت کرے۔
سلمان خان کی سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو؛ مداح ان کی صحت کے حوالے سے پریشان
واضح رہے 1990ء میں ریلیز ہونے والی فلم دل نے عامر خان کے کیریئر کو نئی زندگی دی، جس کے بعد دل ہے کہ مانتا نہیں اور جو جیتا وہی سکندر جیسی کامیاب فلموں نے انہیں بالی ووڈ کے صفِ اوّل کے اداکاروں میں شامل کر دیا۔
