امریکا نے نئی عالمی ویزا پابندی پالیسی کا اعلان کر دیا ہے، جس کے تحت مخصوس افراد اور ان کے قریبی اہل خانہ کے امریکا میں داخلے پر پابندی عائد کی جا سکتی ہے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے امریکی شہریوں کو نشانہ بنانے والے سائبر جرائم، دھوکہ دہی اور آن لائن استحصالی اسکیموں کے خلاف وسیع مہم کا حصہ ہے۔
بیان کے مطابق نئی پالیسی کے تحت آن لائن سرمایہ کاری فراڈ، سیکسٹورشن (نجی مواد کی بنیاد پر بلیک میلنگ) اور دیگر سائبر جرائم میں ملوث افراد ویزا پابندیوں کی زد میں آئیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب نے سفر مزید آسان بنانے کیلئے ‘پیکج ویزا’ متعارف کرا دیا
وزیر خارجہ نے کہا کہ صدر ٹرمپ پہلے ہی ایک ایگزیکٹو آرڈر میں واضح کر چکے ہیں کہ حکومت آن لائن سرمایہ کاری کے فراڈ جیسے “بے مثال خطرات” کے خلاف کارروائی کر رہی ہے۔
مارکو روبیو نے الزام عائد کیا کہ آن لائن سرمایہ کاری فراڈ میں چینی بین الملکی مجرم تنظیمیں شامل ہیں، جنہوں نے صرف 2024 میں امریکی شہریوں کو کم از کم 10 ارب ڈالر کا نقصان پہنچایا، جبکہ ان جرائم سے بدعنوانی، منی لانڈرنگ اور انسانی اسمگلنگ کو بھی فروغ ملا۔
President Trump has made clear that his administration will take action to counter cybercrime, fraud, and predatory schemes against Americans. Today I am announcing a new policy that will restrict visas to foreign nationals responsible for or complicit in cybercrime and…
— Secretary Marco Rubio (@SecRubio) July 23, 2026
انہوں نے مزید کہا کہ بیرون ملک سے چلنے والی سیکسٹورشن اسکیموں کے ذریعے امریکی بچوں کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس سے متاثرہ خاندانوں کو شدید ذہنی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا۔
نئی پالیسی کے تحت سائبر جرائم میں براہ راست ملوث یا معاونت کرنے والے افراد کے ساتھ ساتھ ان کے قریبی خاندان کے افراد پر بھی ویزا پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔ امریکی حکومت ان جرائم کے خلاف کریک ڈاؤن کے لیے پابندیاں، فوجداری مقدمات، اثاثوں کی ضبطگی، حوالگی کے مطالبات اور بین الاقوامی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون سمیت مختلف اقدامات کرے گی۔
امریکی وزیر خارجہ نے کہا، “یہ ایک واضح پیغام ہے کہ امریکا اپنے شہریوں کا استحصال کرنے والوں کا پیچھا نہیں چھوڑے گا۔”
