وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے امریکی ہم منصب اسکاٹ بیسٹ سے ملاقات کی جس میں انہیں پاکستان کے میکرواکنامک استحکام سے پائیدار اور برآمدات پر مبنی گروتھ کے سفر سے آگاہ کیا گیا۔
واشنگٹن میں ہونے والی ملاقات میں محمد اورنگزیب نے علاقائی صورتحال کے پاکستانی معیشت پر پڑنے والے منفی اثرات کو اجاگر کیا جب کہ وزیرخزانہ کا کہنا تھا کہ پاکستان بین الاقوامی کیپٹل مارکیٹوں تک بہتر رسائی، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری، اور خودمختار کریڈٹ ریٹنگز میں اضافہ پر مبنی مارکیٹ رسائی کے حوالے سے امریکی تعاون کا بھی خواہاں ہے۔
وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگ زیب کی امریکی ہم منصب سکاٹ بیسنٹ سے ملاقات
وزیرِ خزانہ سینیٹر محمد اورنگ زیب نے امریکی وزیر خزانہ کو پاکستان کے میکرواکنامک استحکام سے پائیدار اور برآمدات پر مبنی گروتھ کے سفر سے آگاہ کیا
وزیرخزانہ نے علاقائی صورتحال کے پاکستانی… pic.twitter.com/bYdKRDFXpt
— Ministry of Finance, Government of Pakistan (@Financegovpk) July 21, 2026
ملاقات میں دونوں جانب سے معاشی تعاون کے فروغ، امریکی سرمایہ کاری میں اضافے اور تذویراتی منصوبوں کی پیش رفت کو یقینی بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔
دوسری جانب رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ سے پاکستان کے لیے 10 ارب ڈالر کی ایکسچینج اسٹیبلائزیشن سپورٹ فیسلٹی فراہم کرنے کی درخواست کی ہے تاکہ ملکی معیشت کو مزید مستحکم بنایا جا سکے۔
پاکستان امریکا سے تجارتی معاہدے کے قریب، امداد نہیں شراکت داری چاہتے ہیں، اسحاق ڈار
یہ درخواست ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان معاشی اصلاحات، زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے اور مالی استحکام کے لیے مختلف بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ تعاون کو فروغ دے رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق واشنگٹن میں قائم پاکستانی سفارت خانے کے حکام نے اس درخواست کی تصدیق کی ہے، تاہم انہوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم کرنے سے گریز کیا۔امریکی محکمہ خزانہ نے بھی اس معاملے پر فوری طور پر کسی بھی قسم کا تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔
