اسلام آباد: وفاقی وزیر تجارت جام کمال نے کہا ہے کہ عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ تعاون کے ذریعے پاکستان میں سرمایہ کاری، روزگار اور برآمدات کے نئے مواقع پیدا کیے جائیں گے۔
وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان سے سام سنگ کے وفد نے ملاقات کی۔ جس میں پاکستان کو موبائل فونز کی مینوفیکچرنگ اور برآمدی مرکز بنانے پر زور دیا۔
جام کمال خان نے سام سنگ کو پاکستان میں تیار ہونے والے موبائل فونز افریقہ سمیت عالمی منڈیوں میں برآمد کرنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ حکومت برآمدات، ویلیو ایڈیشن اور صنعتی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ہر ممکن سہولت فراہم کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو صرف مقامی مارکیٹ تک محدود رہنے کے بجائے عالمی سپلائی چین کا اہم حصہ بننا ہو گا۔
وفاقی وزیر نے سام سنگ کی جانب سے پاکستان میں سرٹیفائیڈ موبائل فون ریفربشمنٹ مراکز قائم کرنے کی تجویز کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس صنعت سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ جبکہ ٹیکنالوجی کی منتقلی اور برآمدات میں بھی اضافہ ممکن ہو گا۔
اس موقع پر سام سنگ کے وفد نے مقامی موبائل مینوفیکچرنگ کے حوالے سے ٹیکس اور ٹیرف ڈھانچے پر اپنے تحفظات سے آگاہ کیا اور مؤقف اختیار کیا کہ استعمال شدہ موبائل فونز کی کمرشل درآمد مقامی صنعت کو متاثر کر رہی ہے۔
وفد نے تجویز دی کہ استعمال شدہ فونز درآمد کرنے کے بجائے پاکستان میں سرٹیفائیڈ ریفربشمنٹ ماڈل متعارف کرایا جائے۔
جام کمال نے کہا کہ آئندہ موبائل انڈسٹری پالیسی حقیقی مینوفیکچرنگ، ویلیو ایڈیشن، ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور برآمدات پر مرکوز ہو گی، جبکہ سرمایہ کاری، لوکلائزیشن، برآمدات اور ویلیو ایڈیشن سے منسلک مراعات کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔
انہوں نے کمپنی کو ہدایت کی کہ ریفربشمنٹ، برآمدی صلاحیت، سرمایہ کاری اور عالمی بہترین طریقہ کار سے متعلق تفصیلی تجاویز پیش کی جائیں۔ استعمال شدہ موبائل فونز کی درآمد سے متعلق فیصلے شواہد، مرحلہ وار حکمت عملی اور صارفین کے مفاد کو مدنظر رکھ کر کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی روسی ہم منصب سے ملاقات، علاقائی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال
وفاقی وزیر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ سام سنگ سمیت عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ تعاون کے ذریعے پاکستان میں سرمایہ کاری، روزگار اور برآمدات کے نئے مواقع پیدا کیے جائیں گے۔
