نئی دہلی: بھارتی اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی سے معافی مانگنے کا مطالبہ کر دیا۔
اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی نے چھترسال اسٹیڈیم میں قائم عارضی حراست مرکز سے ویڈیو بیان میں کہا کہ طلبہ کے مطالبات بالکل درست ہیں اور ہم طلبہ کے احتجاج کی بھرپور حمایت کا اعلان کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ لوک سبھا کے اسپیکر سے ملاقات کر کے ان سے کہا تھا کہ وہ طلبہ کے ساتھ مذاکرات کریں جس پر انہوں نے کہا کہ انہیں حکومت سے اجازت لینا پڑے گا۔ جس کے بعد انہوں نے جواب دیا کہ حکومت طلبہ سے مذاکرات میں دلچسپی نہیں رکھتی۔
راہول گاندھی نے کہا کہ اسپیکر کے جواب کے بعد ہم نے وزیر اعظم کے گھر کے سامنے دھرنا دینے کا فیصلہ کیا۔ تاکہ طلبہ کے مسائل کو قومی سطح پر اجاگر کیا جا سکے۔ بھارت کا تعلیمی نظام کیوں تباہ ہو رہا ہے ؟ بھارت میں تعلیم کیوں مہنگی ہو رہی ہے؟ سمیت طلبہ کے دیگر جائز سوالات ہیں۔ جو وہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں۔
انہوں نے کہا کہ طلبہ کا مطالبہ ہے کہ وزیر تعلیم اور وزیر داخلہ امیت شاہ اپنے عہدوں سے فوری طور پر مستفیٰ ہوں۔ طلبہ پر جنہوں نے لاٹھی چارج کیا ہے ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔ جبکہ طلبہ کے خلاف دائر کردہ مقدمات کو ختم کیا جائے۔
भारत के छात्रों और प्रधानमंत्री को मेरा सीधा संदेश… pic.twitter.com/pgZZHLLz8h
— Rahul Gandhi (@RahulGandhi) July 21, 2026
راہول گاندھی نے کہا کہ اپوزیشن چاہتی ہے کہ اس مسئلہ کو کل ہونے والے اسمبلی اجلاس میں زیربحث لایا جائے۔ اور وزیر اعظم نریندر مودی گزشتہ روز مظاہرین کے ساتھ کیے جانے والے سلوک پر طلبہ سے معافی مانگیں۔ اور جلد سے جلد تعلیمی نظام میں اصلاحات کریں۔
یہ بھی پڑھیں: فرانس میں 15 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد
واضح رہے کہ گزشتہ روز وزیر اعظم نریندر مودی کی رہائش گاہ کے باہر احتجاج کرنے پر راہول گاندھی سمیت کئی افراد کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔ جبکہ پولیس کی جانب سے مظاہرین پر لاٹھی چارج بھی کیا گیا۔
