بھارت میں طلبہ کے احتجاج اور نئی دہلی میں پولیس کی جانب سے مظاہرین کے خلاف کی گئی کارروائی پر بالی ووڈ کی متعدد معروف شخصیات نے مودی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
سینئر اداکار نصیرالدین شاہ نے طلبہ کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے حکومت اور پولیس کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ ویڈیو پیغام میں انہوں نے کہا کہ انہیں احتجاج کرنے والے طلبہ سے مکمل ہمدردی ہے اور وہ ان کی بہادری کو سراہتے ہیں۔ انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ مایوس نہ ہوں اور کہا کہ پولیس کی جانب سے طاقت کا استعمال تاریخ میں یاد رکھا جائے گا۔
Legendary actor Naseeruddin Shah shares a video, fuming about the way youth were beaten up yesterday in Delhi. He reminds the government, “Sab yaad rakha jayega”
Thank you sir for your voice and solidarity 🙏 pic.twitter.com/pDmp2G4U3R
— Cockroach is Back (@Cockroachisback) July 21, 2026
معروف اداکارہ شبانہ اعظمی بھی دہلی کے جنتر منتر میں مظاہرین کے درمیان پہنچیں۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور حکومت کو چاہیے کہ طلبہ کی آواز دبانے کے بجائے ان کے مطالبات سنے۔
اداکار پرکاش راج نے بھارتی آئین کی کاپی ہاتھ میں اٹھا کر احتجاج میں شرکت کی اور کہا کہ نوجوانوں کے مستقبل کی جدوجہد میں وہ ہمیشہ ان کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔
فلم ساز انوراگ کشیپ نے بھی پولیس پر طاقت کے بے جا استعمال کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اختلاف رائے کو جرم نہیں بنایا جا سکتا۔
اداکارہ پوجا بھٹ نے طلبہ کے خلاف طاقت کے استعمال کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی تشدد کو اکثر قانون و نظم برقرار رکھنے کے نام پر جائز قرار دیا جاتا ہے، جو قابل افسوس ہے۔
سوناکشی سنہا نے احتجاج کے دوران پیش آنے والے پرتشدد واقعات پر افسوس کا اظہار کیا، جبکہ ادیتی راؤ حیدری نے حکومت سے مکالمے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ سیاست سے بالاتر ہو کر طلبہ کے ساتھ ہمدردی اور احترام کا مظاہرہ کیا جانا چاہیے۔
اداکارہ پریتی زنٹا نے بھی سونم وانگچک اور احتجاج کرنے والے طلبہ کی حمایت کرتے ہوئے ایکس پر پیغام جاری کیا۔ انہوں نے وانگچک سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل کی، ساتھ ہی بھارتی حکومت پر زور دیا کہ وہ طلبہ اور سماجی کارکنوں کے ساتھ بامعنی مذاکرات کا آغاز کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ جدوجہد بھارت کے نوجوانوں اور مستقبل کے لیے ہے۔
I hope our govt starts a meaningful dialogue with Sonam Wangchuk and the student bodies so his health does not deteriorate any further ! Please end your fast Sonam. Your health is as important as this fight. You and the students are fighting for the future of India and for our…
— Preity G Zinta (@realpreityzinta) July 21, 2026
اداکار سونوسود نے کہا کہ حکومت طلبہ کو لاٹھیوں سے نہیں بلکہ کھلے دل سے گلے لگائے، جبکہ دیا مرزا نے تعلیمی نظام میں شفافیت اور اصلاحات کا مطالبہ کیا۔

رتیش دیشمکھ اور جنیلیا دیشمکھ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ بھارت کے نوجوانوں کو بغیر خوف کے اپنی آواز بلند کرنے کا حق حاصل ہے کیونکہ وہ ملک کے مستقبل کے معمار ہیں۔
گلوکار و اداکار دلجیت دوسانجھ نے بھی پولیس کارروائی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت طلبہ کی آواز دبانے کے بجائے ان کی بات سنے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں ایک بار پھر “ملک دشمن” قرار دیے جانے کی توقع ہے، جیسا کہ کسان تحریک کی حمایت پر ہوا تھا۔
نئی دہلی: پیپر لیکس پر مودی حکومت کے خلاف احتجاج، راہول گاندھی گرفتار
اس کے علاوہ ہما قریشی، سوہا علی خان، رچا چڈھا، بھومی پیڈنیکر، سوارا بھاسکر اور دیگر فنکاروں نے بھی مظاہرین کی حمایت اور پولیس کارروائی پر تنقید کی۔
