نئی دہلی: بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں جاری “کاکروچ موومنٹ” کے حامیوں کی پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کو پولیس نے ناکام بنا دیا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق نئی دہلی میں ہزاروں مظاہرین احتجاج کرتے ہوئے جنتر منتر سے پارلیمنٹ کی جانب روانہ ہوئے۔ تاہم پولیس نے جگہ جگہ سیکیورٹی رکاوٹیں کھڑی کر دیں اور مظاہرین کو روکنے کی کوشش کی۔
پولیس نے مظاہرین کی جانب سے رکاوٹوں کو عبور کرنے کی کوشش پر آنسو گیس کے شیل فائر کیے اور لاٹھی چارج کیا۔ اس کے باوجود متعدد مظاہرین چھوٹے گروپوں کی صورت میں پارلیمنٹ کی جانب بڑھتے رہے۔
پولیس کے مطابق پارلیمنٹ کے اجلاس کے دوران مارچ کی اجازت نہیں دی گئی تھی، اس لیے امن و امان برقرار رکھنے کے لیے کارروائی کی گئی۔

کاکروچ جنتا پارٹی کے ترجمان سوربھ داس نے الزام عائد کیا کہ حکام نے پرامن مظاہرین کے خلاف طاقت کا بے دریغ استعمال کیا۔ احتجاج میں طلبہ، پیشہ ور افراد اور خاندانوں سمیت بڑی تعداد میں شہری شریک ہوئے، جو وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور امتحانی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے تھے۔

واضح رہے کہ یہ تحریک اس وقت زور پکڑ گئی جب اعلیٰ تعلیمی اداروں اور سرکاری ملازمتوں کے داخلہ امتحانات کے پرچے بار بار لیک ہونے کے واقعات سامنے آئے، جس پر نوجوانوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

دوسری جانب کشیدہ صورتحال کے دوران حکومت اور احتجاجی قیادت کے درمیان رابطے کی پہلی پیش رفت بھی سامنے آئی۔
یہ بھی پڑھیں: جرائم میں اضافہ،امریکا کابھارتی ٹرک ڈرائیورز پرپابندی لگانے پر غور
احتجاجی نمائندوں نے وزیر صحت جے پی نڈا سے ملاقات کر کے وزیر تعلیم کے استعفے، امتحانی نظام میں اصلاحات اور پرچہ لیک ہونے کے باعث خودکشی کرنے والے طلبہ کے اہل خانہ کے لیے معاوضے سمیت اپنے مطالبات پیش کیے۔
