لاہور: ویلنشیا ٹاؤن میں خاتون اور ان کے تین بچوں کی ہلاکت کے افسوسناک واقعے کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔
انویسٹی گیشن پولیس کے مطابق پولیس نے ویلنشیا ٹاؤن میں جاں بحق خاتون کی امریکا اور کینیڈا میں مقیم بہنوں سے رابطہ کرکے ان کے بیانات قلمبند کر لیے ہیں۔
جاں بحق خاتون کی بہنوں نے اپنے بیانات میں تصدیق کی ہے کہ خاتون ذہنی عارضے کا شکار تھیں۔ پاکستان روانگی سے قبل خاتون نے انہیں بتایا تھا کہ ان کی طبیعت پہلے سے بہتر ہو گئی ہے، جس کے باعث انہوں نے اپنی ادویات کا استعمال بھی کم کر دیا تھا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کے سلسلے میں زیر حراست بچوں کے والد کو ابتدائی تفتیش کے بعد رہا کر دیا گیا ہے، جبکہ کیس کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات بدستور جاری ہیں۔
انویسٹی گیشن پولیس کے مطابق واقعے کی تمام ممکنہ وجوہات کا جائزہ لیتے ہوئے شواہد کی روشنی میں تفتیش کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ دو روز قبل لاہور کے علاقے ویلنشیا ٹاؤن کے ایک گھر سے خاتون اور تین بچوں کی لاشیں برآمد ہوئی تھیں۔ جس کے بعد پولیس نے گھر کے سربراہ ناصر ڈوگر کو حراست میں لے لیا تھا۔
پولیس کے مطابق جاں بحق افراد کی شناخت 40 سالہ علینہ، 16 سالہ ریحان، 11 سالہ ارشیہ اور 9 سالہ ارسل کے نام سے ہوئی تھی۔
ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کا کہنا تھا کہ بچوں کی والدہ بھی گھر میں مردہ حالت میں پائی گئیں، بظاہر چاروں افراد کو زہر دے کر قتل کیا گیا ہے۔ واقعے کی اطلاع ملنے پر کرائم سین یونٹ اور فرانزک ماہرین کو طلب کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: یہ اپنی سیاست کی خاطر پاکستان کو بدنام کرنا چاہتے ہیں، عطا اللہ تارڑ
پولیس نے ابتدائی طور پر گھر کے سربراہ ناصر ڈوگر کو بیانات میں تضاد کی وجہ سے حراست میں لیا تھا۔
