ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ثالثوں نے 10 روزہ جنگ بندی کی تجویز پیش کر دی ہے۔
یہ دعویٰ خبر رساں ادارے رائٹرز کی جانب سے کیا گیا ہے جس کے مطابق یہ معلومات ایک “سینئر ایرانی عہدیدار” نے فراہم کی ہیں۔
رائٹرز کے مطابق جنگ بندی کی تجویز کا بنیادی مقصد گزشتہ ماہ طے پانے والے عبوری معاہدے کو دوبارہ فعال بنانا ہے۔
ثالثوں کے پیغامات ملے، تفصیل ظاہر نہیں کریں گے، ایران
اس سے قبل ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایک پریس بریفنگ میں تصدیق کی کہ ثالثوں کی جانب سے تجاویز موصول ہوئی ہیں اور ان کا جائزہ لیا جا رہا ہے، تاہم فی الحال ان کی تفصیلات ظاہر نہیں کی جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کشیدگی میں کمی کے لیے سفارتی راستہ اختیار کرنے کے عزم پر قائم ہے، جبکہ ملکی مسلح افواج امریکی کارروائیوں کا بھرپور جواب دے رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ “سفارتکاری اور دفاع دونوں اپنے اپنے دائرہ کار میں ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔”
ترجمان نے مزید کہا کہ ایران، عمان کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز میں سکیورٹی کو یقینی بنانے اور کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے پرعزم ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ ماہ پاکستان کی ثالثی میں ایران اور امریکہ کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت طے پائی تھی، جس کا مقصد جنگ کے خاتمے اور پائیدار امن کی راہ ہموار کرنا تھا۔ تاہم حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز کے حوالے سے کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان محدود فوجی جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔
سفارتی اور سکیورٹی ماہرین 10 روزہ جنگ بندی کی تجویز کو اعتماد سازی کے اقدام کے طور پر دیکھ رہے ہیں، جو فریقین کے مابین مثبت مذاکرات کے لیے راہ ہموار کر سکتی ہے۔
