فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کے مئے مقرر ہونے والے سربراہ خلیل الحیہ کا شمار تنظیم کے سینئر اور بااثر رہنماؤں میں ہوتا ہے۔
انہوں نے 2024 میں اسرائیلی حملے میں لقمہ اجل بن جانے والے حماس کے اس وقت کے سربراہ یحیٰ سنوار کی جگہ یہ عہدہ سنبھالا ہے۔ ان کی تقرری سابق سربراہ کی وفات کے لگ بھگ 2 سال اور غزہ میں حماس کی حکومت تحلیل کیے جانے کے دو ہفتے بعد عمل میں آئی ہے۔
ویکیپیڈیا کے مطابق وہ 5 نومبر 1960 کو غزہ میں پیدا ہوئے اور 1987 میں حماس کے قیام سے ہی اس کے ساتھ وابستہ ہیں۔ اس سے قبل وہ ‘مسلم برادرہُڈ’ کا حصہ رہے، جس سے حماس نے جنم لیا۔ وہ 2006 سے فلسطینی قانون ساز کونسل کے رکن بھی منتخب ہوتے رہے ہیں۔
خلیل الحیہ حماس میں مختلف اہم عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں، جن میں پولیٹیکل بیورو کے ڈپٹی چیئرمین کا منصب بھی شامل ہے۔ حالیہ برسوں میں تنظیم کی اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنائے جانے کے بعد ان کا اثر و رسوخ مزید بڑھ گیا ہے، خصوصاً اسماعیل ہنیہ اور یحیٰ سنوار کی وفات کے بعد۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق خلیل الحیہ کو حماس کی بیرونِ ملک قیادت کا ایک اہم ستون سمجھا جاتا ہے اور وہ قطر میں مقیم رہتے ہوئے تنظیم کے سیاسی اور سفارتی امور میں سرگرم رہے ہیں۔ انہوں نے اسرائیل کے ساتھ بالواسطہ جنگ بندی مذاکرات میں کلیدی کردار ادا کیا۔
وہ ایران سمیت خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات استوار کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں، جبکہ شام کے ساتھ حماس کے تعلقات کی بحالی کی کوششوں میں بھی شامل رہے۔
اسرائیلی مظالم کا براہ راست شکار
ذاتی طور پر خلیل الحیہ کو شدید نقصانات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ ان کے خاندان کے متعدد افراد مختلف اسرائیلی حملوں میں جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں ان کے دو بیٹے بھی شامل ہیں۔ وہ خود بھی کئی بار اسرائیلی حراست میں رہ چکے ہیں۔
