تہران: بی بی سی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے امریکا کے ساتھ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد معطل کرنے کا اعلان کر دیا۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ ایران نے مفاہمتی یادداشت کے تحت کیے گئے اپنے وعدوں پر عملدرآمد فی الحال معطل کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں ایران کی اولین ترجیح ملک کا دفاع اور قومی سلامتی ہے، اسی لیے مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد روک دیا گیا ہے۔
کاظم غریب آبادی نے کہا کہ ایران اس وقت معاہدے پر عمل نہیں کر رہا اور تمام تر توجہ دفاعی معاملات پر مرکوز ہے۔ ایران آئندہ صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد ہی مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد کے حوالے سے کوئی فیصلہ کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ ایران مذاکراتی عمل میں شریک تھا، تاہم امریکی اقدامات نے اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا۔
دوسری جانب پاکستان میں ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایران پر امریکی حملے مفاہمتی یادداشت اور بین الاقوامی اصولوں کے خلاف ہیں، عالمی برادری اس جارحانہ لاپرواہی کی شدید مذمت کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی جانب سے کئی ماہ کی ثالثی کے بعد 14 نکات پر مشتمل ایک مفاہمت کی یادداشت طے پا گئی اور مذاکرات کو 6 ماہ میں جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ تاہم امریکہ نے ان شرائط کے برعکس ایم او یو کی خلاف ورزی کی اور آبنائے ہرمز کے کچھ حصوں پر کنٹرول حاصل کر لیا تاکہ وہ حاصل کیا جا سکے جو میدان جنگ میں حاصل نہیں ہوا تھا۔
رضا امیری مقدم کا کہنا تھا کہ اب امریکہ نے ایم او یو کی شرائط اور بین الاقوامی اصولوں کے خلاف جنگ شروع کر کے انفراسٹرکچر کو تباہ کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا کی ساتویں روز بھی بمباری ، ایران کا اردن میں امریکی فوجی اڈے پر حملہ ، کئی فوجی زخمی
ایرانی سفیر نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اس جارحانہ اور غیر ذمہ دارانہ اقدام کی سخت مذمت کرے۔
