امریکا اور ایران کے درمیان ایک دوسرے پر حملوں اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے، جس سے توانائی کی عالمی منڈی ایک بار پھر دباؤ کا شکار ہو گئی ہے۔
غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق تازہ ترین کاروباری اعداد و شمارمیں برطانوی خام تیل برینٹ کروڈ کی قیمت بڑھ کر 84 ڈالرفی بیرل تک پہنچ گئی ہے، جو مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پرسرمایہ کاروں کے خدشات کی عکاسی کرتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی خام تیل (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت بھی اضافے کے بعد 79 ڈالر فی بیرل ہو گئی ہے، جبکہ مربن کروڈ کی قیمت بھی بڑھ کر 79 ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکی ہے۔
ماہرین کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی نے عالمی توانائی منڈی میں غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ اگر تنازع مزید شدت اختیار کرتا ہے تو تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ دیکھنے میں آ سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خلیجی خطے میں کسی بھی قسم کی عسکری کشیدگی عالمی تیل کی ترسیل پر براہ راست اثرانداز ہوتی ہے، کیونکہ دنیا کی بڑی مقدار میں خام تیل اسی خطے سے برآمد کیا جاتا ہے۔ اسی تناظر میں عالمی منڈیوں میں قیمتوں کا رجحان مسلسل اوپر کی جانب دیکھا جا رہا ہے۔
ٹرمپ نے عراق کے ساتھ بڑے تیل معاہدوں کا اعلان کر دیا
اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف تیل بلکہ توانائی سے وابستہ دیگر شعبوں میں بھی قیمتوں میں اتارچڑھاؤ کا امکان موجود ہے، جس کے اثرات عالمی معیشت اورمختلف ممالک کی درآمدی لاگت پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
