وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کے مطابق پاکستان کی آئی ٹی صنعت نے مالی سال کے دوران تاریخی کامیابی حاصل کرتے ہوئے برآمدات کو 4.6 ارب ڈالر کی ریکارڈ بلند ترین سطح تک پہنچا دیا۔
وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں آئی ٹی برآمدات میں 21 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ شعبے کا تجارتی سرپلس 85 فیصد تک پہنچ گیا، جو اس شعبے کی مسلسل ترقی کی عکاسی کرتا ہے۔
وزارت کے مطابق آئی ٹی اس وقت پاکستان کا سب سے تیزی سے ترقی کرنے والا برآمدی شعبہ بن چکا ہے، جس کی کامیابی میں وزیراعظم کی خصوصی توجہ، حکومتی سرپرستی اور صنعت دوست پالیسیوں کا اہم کردار رہا ہے۔
حکومت نے آئی ٹی شعبے کو عالمی سطح پر مسابقتی بنانے اور برآمدات میں اضافے کے لیے متعدد اقدامات کیے، جن کے مثبت نتائج سامنے آئے۔
وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران ایک لاکھ سے زائد نوجوانوں کو جدید آئی ٹی مہارتوں کی تربیت فراہم کی گئی تاکہ ہنرمند افرادی قوت میں اضافہ ہو اور عالمی منڈی کی ضروریات پوری کی جا سکیں۔
اس کے علاوہ دنیا بھر میں 20 سے زائد بین الاقوامی ٹیکنالوجی نمائشوں میں پاکستان کی شرکت یقینی بنائی گئی، جہاں 250 سے زائد پاکستانی آئی ٹی کمپنیوں اور اسٹارٹ اپس کو اپنی مصنوعات، سافٹ ویئر اور خدمات عالمی خریداروں اور سرمایہ کاروں کے سامنے پیش کرنے کا موقع ملا۔
وزارت کے مطابق وزیراعظم کے مختلف غیر ملکی دوروں میں بھی آئی ٹی صنعت کے نمائندوں کو سرکاری وفود کا حصہ بنایا گیا، جس سے پاکستانی کمپنیوں کو نئی عالمی منڈیوں تک رسائی، غیر ملکی سرمایہ کاری کے مواقع اور بین الاقوامی کاروباری روابط قائم کرنے میں مدد ملی۔
چینی کمپنی نے دنیا کا پہلا روبوٹ فون متعارف کرا دیا
حکومت نے آئی ٹی برآمد کنندگان کے لیے متعدد مراعات بھی متعارف کرائیں، جن میں فائنل ٹیکس رجیم کا تسلسل، برآمدی آمدن پر 0.25 فیصد ٹیکس کی سہولت اور کاروبار دوست پالیسیوں کا نفاذ شامل ہے۔ وزارت کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے نہ صرف آئی ٹی صنعت کی مسابقتی صلاحیت میں اضافہ ہوا بلکہ برآمدی استعداد بھی مزید مضبوط ہوئی۔
وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کا کہنا ہے کہ حکومت مستقبل میں بھی ڈیجیٹل معیشت کے فروغ، آئی ٹی برآمدات میں مزید اضافے، نوجوانوں کی مہارتوں میں بہتری اور پاکستان کو خطے کا نمایاں ٹیکنالوجی مرکز بنانے کے لیے اقدامات جاری رکھے گی۔
