امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ بڑھتی ہوئی کشیدگی نے جون میں طے پانے والے عبوری معاہدے کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ آبنائے ہرمز، ایران کے جوہری پروگرام اور دیگر اہم معاملات پر اختلافات ہیں، جس سے خطے میں دیرپا امن کی کوششوں کو شدید دھچکا لگ رہا ہے۔
جون میں طے پانے والی 14 نکاتی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو تجارتی جہازوں کے لیے کھولنے کا اعلان کیا گیا تھا، تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق معاہدے میں کئی اہم نکات مبہم چھوڑ دیے گئے تھے، جبکہ ایران کے جوہری پروگرام جیسے حساس معاملات کو مذاکرات کے دوسرے مرحلے تک مؤخر کر دیا گیا تھا۔
فریقین نے حالیہ دنوں میں معاہدے کے بارے میں کیا کہا؟
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے ابتدائی جنگ بندی معاہدے کو “ختم” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی حکام اپنے طے شدہ وعدوں پر عمل نہیں کر رہے۔ پیر کے روز انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکا غالباً آبنائے ہرمز کا کنٹرول سنبھال لے گا۔
دوسری جانب ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کے روز واشنگٹن پر الزام عائد کیا کہ امریکا نے اپنی مسلسل خلاف ورزیوں کے ذریعے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو “بحران” میں دھکیل دیا ہے۔
ادھر ثالثی کا کردار ادا کرنے والے پاکستان نے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ معاہدے کے تحت کیے گئے اپنے وعدوں کی مکمل پاسداری کریں۔
آبنائے ہرمز پر اصل تنازع کیا ہے؟
28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد شروع ہونے والی جنگ کے دوران ایران نے مؤثر طور پر آبنائے ہرمز بند کر دی تھی، جس کے ذریعے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ تیل اور مائع قدرتی گیس (LNG) کی ترسیل ہوتی رہی ہے۔
معاہدے کے آرٹیکل 5 کے مطابق تجارتی جہازوں کی آمدورفت فوری طور پر بحال ہونا تھی، ایران نے یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ اپنی بہترین کوششوں کے ذریعے خلیج فارس سے بحیرہ عمان اور بحیرہ عمان سے خلیج فارس جانے والے تجارتی جہازوں کی 60 روز تک بغیر کسی فیس یا ٹول ٹیکس کے محفوظ آمدورفت یقینی بنائے گا۔
ایران اس شق کو اس بات کی علامت قرار دیتا ہے کہ امریکا نے پورے آبی راستے کے انتظام میں ایران کے کردار کو تسلیم کیا ہے، اگرچہ دو ماہ تک کوئی فیس وصول نہیں کی جائے گی۔ تاہم امریکا اور خلیجی ممالک نے ایران کی تشریح کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس شق کا مقصد صرف یہ ہے کہ ایران تجارتی جہازوں کی محفوظ گزرگاہ میں رکاوٹ نہ ڈالے اور طاقت کے ذریعے نقل و حرکت محدود نہ کرے۔ امریکا نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں کسی قسم کا ٹول ٹیکس عائد نہیں کیا جائے گا۔
گزشتہ ہفتے ایران نے جہازوں پر فائرنگ کرکے دعویٰ کیا تھا کہ وہ منظور شدہ راستے کے بجائے دوسرے راستے سے گزرنے کی کوشش کر رہے تھے، تہران نے ایک بار پھر آبنائے ہرمز کو بند قرار دیا۔
ادھر امریکی بحریہ کے جوائنٹ میری ٹائم انفارمیشن سینٹر نے اتوار کے روز کہا کہ آبنائے ہرمز کے جنوبی راستے کو دو طرفہ آمدورفت کے لیے مزید وسعت دے دی گئی ہے اور وہ بدستور قابلِ استعمال ہے۔
ایرانی تیل کی فروخت سے متعلق امریکی رعایتوں کا کیا بنا؟
معاہدے کے آرٹیکل 10 کے تحت امریکا نے ایرانی خام تیل، پیٹرولیم مصنوعات ، انشورنس ، نقل و حمل اور بینکنگ ٹرانزیکشن کی سہولیات کے لیے خصوصی رعایتیں (Waivers) جاری کرنے پر اتفاق کیا تھا۔
یہ ایران کے لیے بڑی کامیابی سمجھی گئی کیونکہ برسوں سے عائد امریکی پابندیوں نے اس کی معیشت کو شدید متاثر کیا تھا تاہم 7 جولائی کو امریکا نے ایران کو تیل فروخت کرنے کی اجازت دینے والا لائسنس منسوخ کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز میں ایران کے اقدامات “کسی صورت قابلِ قبول نہیں” اور ان کے نتائج برآمد ہوں گے۔ ایران نے اس اقدام کو اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔
ایران کے منجمد اثاثوں کی موجودہ صورتحال کیا ہے؟
معاہدے کے آرٹیکل 11 کے مطابق امریکا نے اس بات کا عہد کیا تھا کہ ایران کے منجمد یا محدود مالی اثاثے اور فنڈز استعمال کے لیے دستیاب بنائے جائیں گے، جبکہ ان اثاثوں کی رہائی کے طریقہ کار پر تہران اور واشنگٹن مذاکرات کے دوران باہمی اتفاق سے فیصلہ کریں گے۔
ان منجمد اثاثوں میں قطر کے بینک اکاؤنٹس میں موجود 6 ارب ڈالر بھی شامل ہیں۔ قطر نے 30 جون کو واضح کیا تھا کہ اس نے یہ رقم تہران کو منتقل نہیں کی۔
22 جون کو امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا تھا کہ جب یہ منجمد فنڈز جاری کیے جائیں گے تو ان پر امریکا اور قطر کا کنٹرول ہو گا اور یہ رقم امریکی مکئی، سویابین اور گندم کی خریداری پر خرچ کی جا سکے گی۔
اس کے جواب میں جنیوا میں اقوام متحدہ کے لیے ایران کے سفیر علی بحرینی نے کہا کہ منجمد اثاثے جاری ہونے کے بعد انہیں کس مقصد کے لیے استعمال کرنا ہے، اس کا فیصلہ صرف ایران ہی کرے گا۔
لبنان اس معاملے میں کہاں کھڑا ہے؟
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور چیف مذاکرات کار باقر قالیباف نے 8 جولائی کو کہا کہ لبنان میں اسرائیلی حملے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی ہیں۔
لبنان اس تنازع کا حصہ اس وقت بنا جب ایران کی حمایت یافتہ تنظیم حزب اللہ نے 2 مارچ کو اسرائیل پر حملے شروع کیے، جس کے بعد اسرائیل نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے جنوبی لبنان میں فوجی آپریشن اور زمینی کارروائی کا آغاز کیا۔ ایران کا مؤقف تھا کہ معاہدے کے تحت اسرائیل کو لبنان میں بھی جنگ بندی کرنا ہوگی۔
اس صورتحال کے بعد وسیع تر مذاکرات کا مستقبل کیا ہو گا؟
اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے مطابق واشنگٹن اور تہران نے زیادہ سے زیادہ 60 دن کے اندر حتمی معاہدے پر مذاکرات مکمل کرنے کا عہد کیا تھا، جس میں باہمی رضامندی سے توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔ تاہم آبنائے ہرمز پر اختیار اور کنٹرول کے معاملے پر شدید اختلافات کے باعث دونوں ممالک نے آئندہ مذاکرات کے کسی نئے دور کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا۔
یاد رہے کہ ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان 2015 کے جوہری معاہدے تک پہنچنے میں کئی سال لگے تھے، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پہلے دورِ صدارت میں امریکا کو اس معاہدے سے الگ کر لیا تھا۔
کارنیگی مڈل ایسٹ سینٹر کے تجزیہ کار موہند حاج علی کے مطابق، “اسلام آباد مفاہمتی یادداشت اس وقت شدید بحران کا شکار ہے، اور اگر خطے میں دوبارہ استحکام لانا مقصود ہے تو اسے بحال کرنے کے لیے ایک نئے ضمنی معاہدے کی ضرورت ہو گی۔ معاہدے میں موجود ابہام اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ معاملات انتہائی پیچیدہ تھے اور خود یہ معاہدہ بھی نہایت نازک بنیادوں پر قائم تھا۔”
