اقوام متحدہ نے ٹرمپ کے آبنائے ہرمز پر 20 فیصد معاوضے کے اعلان کی مخالفت کر دی۔
اقوام متحدہ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے کارگو پر 20 فیصد معاوضہ وصول کرنے کے اعلان کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے استعمال ہونے والے کسی بھی بحری راستے پر فیس عائد کرنے کی حمایت نہیں کی جا سکتی۔
اقوام متحدہ کی شپنگ ایجنسی کے ترجمان نے کہا کہ بین الاقوامی بحری راستوں سے گزرنے پر لازمی ٹول ٹیکس یا کسی بھی قسم کی فیس نافذ کرنے کی کوئی قانونی بنیاد موجود نہیں۔
ترجمان کے مطابق اقوام متحدہ اس اصول کی حامی ہے کہ بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے استعمال ہونے والے بحری راستے آزاد اور بلا رکاوٹ رہنے چاہئیں۔
ترجمان نے مزید کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کارگو پر 20 فیصد معاوضہ وصول کرنے کے اعلان کی مزید تفصیلات کا انتظار کیا جا رہا ہے، جس کے بعد اس معاملے پر مزید مؤقف اختیار کیا جائے گا۔
— Rapid Response 47 (@RapidResponse47) July 13, 2026
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کھلی رہے گی اور ایران کی موجودگی یا عدم موجودگی سے اس کی حیثیت تبدیل نہیں ہوگی۔
اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کر رہا ہے، جس کا مقصد صرف ایرانی جہازوں یا ایران سے وابستہ صارفین کی آمدورفت کو محدود کرنا ہے، جبکہ دیگر تمام ممالک کو آبنائے ہرمز کے استعمال کی مکمل آزادی حاصل ہوگی۔
ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اب آبنائے ہرمز کا “محافظ” ہوگا اور اس اہم بحری راستے پر سلامتی اور سیکیورٹی فراہم کرنے کے اخراجات پورے کرنے کے لیے وہاں سے گزرنے والے تمام کارگو پر 20 فیصد معاوضہ وصول کیا جائے گا۔
آبنائے ہرمز پر کنٹرول نہیں چھوڑیں گے، سپریم لیڈر کے مشیر کا سخت موقف
امریکی صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ یہ عمل فوری طور پر شروع کیا جائے گا اور اس کے لیے ضروری انتظامات بھی فوری کیے جائیں گے۔
تاہم انہوں نے اپنے اعلان میں یہ واضح نہیں کیا کہ 20 فیصد معاوضہ کس طریقہ کار کے تحت وصول کیا جائے گا یا اس کا اطلاق کن ممالک اور جہازوں پر ہوگا۔
