جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا ایک متنازع خطاب مین اسٹریم اور سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بنا ہوا ہے جس پر اہم حکومتی اور سیاسی رہنما کھل کر تنقید کر رہے ہیں۔
مولانا نے ہفتے کے روز قصور میں ایک کانفرنس سے کی گئی تقریر میں عکسری حلقوں پر سیاست میں مداخلت کا الزام عائد کرتے ہوئے شہدائے وطن کی قربانیوں کو بھی متنازع بنانے کی کوشش کی جس پر سیساسی حلقوں نے ان پر سخت الفاظ میں تنقید کی۔
حکومتی رہنماؤں کی جانب سے تنقید کا پہلا تیر وزیردفاع خواجہ آصف نے چلایا۔ ایکس پر کی گئی ایک پوسٹ میں انہوں نے کہا کہ “فوجی جوانوں کی وطن کے لیے قربانی کو ان کی تنخواہ سے جوڑنا نہ صرف غیرمنصفانہ ہے بلکہ شہداء اور ان کے خاندانوں کی دل آزاری کے مترادف ہے۔”
انہوں نے کہا کہ کوئی شخص محض تنخواہ کے لیے اپنی جان نہیں دیتا۔ جان کی قربانی کے پیچھے کسی نظریے، عقیدے، فرض اور وطن سے گہری وابستگی ہوتی ہے۔ آپ حالات و واقعات یا طریقہ کار سے اختلاف کر سکتے ہیں، مگر اس نظریے، وابستگی، محبت اور قربانی کی توہین نہیں کر سکتے۔”
مولانا فضل الرحمان ایک کہنہ مشق سیاست دان اور ممتاز مذہبی رہنما ہیں، اس لیے ان سے الفاظ کے انتخاب میں زیادہ ذمہ داری کی توقع کی جاتی ہے۔ فوجی جوانوں کی وطن کے لیے قربانی کو ان کی تنخواہ سے جوڑنا نہ صرف غیرمنصفانہ ہے بلکہ شہداء اور ان کے خاندانوں کی دل آزاری کے مترادف ہے۔ کوئی شخص…
— Khawaja M. Asif (@KhawajaMAsif) July 13, 2026
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے جے یو آئی چیف کے بیان کو اخلاق کے تقاضوں اور اسلامی تعلیمات سے متصادم قرار دیتے ہوئے کہا کہ “شہادت کا مقام کسی دنیاوی معاوضے سے کہیں بلند ہے۔ تنخواہ خدمت کا معاوضہ ہو سکتی ہے، لیکن جان کا نذرانہ کبھی کسی مالی قیمت میں نہیں تولا جا سکتا۔”
ایکس پر کی گئی ایک تفصیل پوسٹ میں انہوں نے قرآنی آیات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ شہدا کی قربانی کا احترام کرنا اور انہیں ہر قسم کی سیاست سے بالاتر رکھنا ہماری قومی، سیاسی،اخلاقی اور دینی ذمہ داری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اختلافِ رائے ہر شخص کا حق ہے، لیکن شہداء کے مقام و مرتبے کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے ہمیں ایسے الفاظ سے اجتناب کرنا چاہیے جو ان کے اہلِ خانہ، ان کے ساتھیوں اور پوری قوم کے دلوں کو دکھ پہنچائیں۔
مولانا صاحب!
آپ سے ہمارا تعلق ہمیشہ احترام کا رہا ہے، اسی احترام کے جذبے کے تحت چند گزارشات پیش کرنا چاہتا ہوں۔
آپ کے حالیہ بیان سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ آپ نے جذبات کی رو میں بہہ کر ہمارے شہداء کی عظیم قربانیوں کی قدر و منزلت کو کم کرکے پیش کیا۔ اس سے نہ صرف میرے بلکہ کروڑوں…— Ahsan Iqbal (@betterpakistan) July 13, 2026
اسی طرح وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے ایکس پر جاری پیغام میں کہا کہ وطن پر جان نچھاور کرنے والے شہدا پر کسی بھی سیاسی گفتگو کی کوئی گنجائش نہیں کیونکہ ان کی قربانیوں کا کوئی مول نہیں ہو سکتا۔
ان کا کہنا تھا کہ شہداء کے عظیم ورثا جو اپنے پیاروں کو گھر سے رخصت کرتے ہوئے ان کی شہادت کی دعائیں کرتے ہیں، ان کے حوصلوں کو سلام ہے۔ ایسے دلیر اور بہادر سپوت قوم کا سرمایہ ہیں۔
جو شہداء وطن عزیز پر اپنی جان نچھاور کرتے ہیں، پوری قوم ان کی قرض دار ہے۔ ان کے عظیم ورثا جو اپنے پیاروں کو گھر سے رخصت کرتے ہوئے ان کی شہادت کی دعائیں کرتے ہیں، ان کے حوصلوں کو سلام ہے۔ ایسے دلیر اور بہادر سپوت قوم کا سرمایہ ہیں۔ انکے حوالے سے کی جانے والی کسی بھی سیاسی گفتگو کی… pic.twitter.com/YAUa5Qz3H2
— Attaullah Tarar (@TararAttaullah) July 13, 2026
تنقید کرنے والوں میں وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری بھی شامل تھے جنہوں نے ایکس پر کی گئی پوسٹ میں کہا کہ ہم جوانوں اور افسروں کی لازوال قربانیوں کے باعث سکون کی نیند سوتے ہیں جو ہر محاذ پر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہیں۔
مولانا کے بیان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شہداء کے لہو سے لکھی گئی تاریخ کسی سیاسی بیان، طنز یا تمسخر سے نہ مٹ سکتی ہے اور نہ ہی ان عظیم قربانیوں کی قدر کم کی جا سکتی ہے۔
“اختلافِ رائے ہر ایک کا حق ہے، مگر وطن کے محافظوں کی عزت، ان کی قربانیوں اور شہداء کے مقدس خون کا احترام ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔”
پاکستان کی فوج صرف ایک ادارہ نہیں، بلکہ قوم کے وقار، سلامتی اور بقاء کی علامت ہے۔
آج اگر ہم اپنے گھروں میں سکون کی نیند سوتے ہیں، اگر ہمارے بچے آزادی کی فضا میں سانس لیتے ہیں، تو اس کے پیچھے اُن جوانوں اور افسروں کی لازوال قربانیاں ہیں جو سرحدوں پر، برف پوش چوٹیوں میں، ریگستانوں… pic.twitter.com/ozrZL6nOr1
— Dr. Tariq Fazal Ch. (@DrTariqFazal) July 14, 2026
اس کے علاوہ وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ، وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان، وزیر مملکت برائے اوورسیز پاکستانیز عون چوہدری، استحکام پاکستان پارٹی کے ترجمان فیاض الحسن چوہان، اور سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے بھی مولانا مولانا فضل الرحمان کے شہدا سے متعلق بیان پر افسوس کا اظہار کیا۔
شہادت” مقصود و مطلوبِ مومن ہے۔ یہ اُس کا نصیب ہے جو قاری نظر آتا ہے، حقیقت میں ہے قرآن۔ یہ راز ہم دنیاداروں، تنخواہ داروں کی سمجھ سے بالاتر ہے۔ اللہ تعالیٰ شہداء کے ورثاء اور غازیوں کو صبرِ جمیل اور یقینِ محکم کی دولت سے مالا مال رکھے کہ یہی ہماری آزادی اور بقا کا ضامن ہے۔ “آمین
— Rana Sana Ullah Khan (@RanaSanaullahPK) July 14, 2026
عبدالعلیم خان نے ایکس پر پیغام لکھا قومی اداروں کے خلاف اشتعال انگیز بیانات اور ایسا طرزِ عمل جو دشمن کے پروپیگنڈے کو تقویت دے، قابلِ مذمت ہے جبکہ عون چوہدری نے ویڈیو بیان میں مولانا فضل الرحمن سے معافی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ “آپ نے فوجی جوانوں کی شہادتوں کو تنخواہ سے جوڑ دیا، ہم آپ کو ڈبل پیسے دیتے ہیں آپ اور آپ کے بچے اس ملک کے لیے شہید ہوں۔”
پاک فوج پاکستان کی سلامتی، استحکام اور دفاع کی علامت ہے۔ جن جوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے اس وطن کا دفاع کیا، پوری قوم ان کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔قومی اداروں کے خلاف اشتعال انگیز بیانات اور ایسا طرزِ عمل جو دشمن کے پروپیگنڈے کو تقویت دے، قابلِ مذمت ہے۔…
— Abdul Aleem Khan (@abdul_aleemkhan) July 14, 2026
فیاض الحسن چوہان کا کہنا تھا کہ مولانا نے افواج اور شہدا کیخلاف نامناسب الفاظ استعمال کیے اور ان کے بیان سے ہرپاکستانی کادل دکھا ہے۔
