امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے پک ایکس ماؤنٹین جوہری مرکز کو نشانہ بنانے کی دھمکی دیدی۔
قدامت پسند ریڈیو میزبان ہیو ہیوٹ کو انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں مزید دو سے تین ہفتے جاری رہ سکتی ہیں۔
ٹرمپ نے ایران کے انتہائی محفوظ جوہری مرکز کوہ کولانگ گاز لا جسے پک ایکس ماؤنٹین بھی کہا جاتا ہے کو ممکنہ ہدف قرار دیا۔
ٹرمپ نے کہا کہ ہم پک ایکس ماؤنٹین کو تباہ کر دیں گے، ایرانیوں سے کہہ دیں تیار رہیں وہ اس کے بارے میں کچھ نہیں کر سکتے۔
ٹرمپ کا آبنائے ہرمز پر معاوضہ وصول کرنے کا اعلان، اقوام متحدہ نے مخالفت کر دی
واضح رہے کہ یہ جوہری تنصیب ایران کے وسطی علاقے میں زاگرس پہاڑی سلسلے کے اندر سرنگوں میں قائم انتہائی مضبوط اور محفوظ مرکز سمجھی جاتی ہے۔
ہر جہاز سے 20 فیصد معاوضہ لیں گے؛ ٹرمپ کا آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کا اعلان
قبل ازیں ڈونلڈ ٹرمپ نے دوبارہ ایران کی بحری ناکہ بندی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی جہازوں کو روکا جائے گا، دیگر ممالک کے تجارتی اور مال بردار جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت حاصل گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ یا ایران کے بغیر آبنائے ہرمز کھلی ہے اور کھلی رہے گی۔ امریکا خطے میں بحری آمدورفت کے تحفظ کو یقینی بنائے گا اور آبنائے ہرمز کے محافظ کے طور پر اپنی ذمہ داری ادا کرے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام کارگو پر 20 فیصد معاوضہ وصول کیا جائے گا۔ اس معاوضے کا مقصد بحری راستوں کی حفاظت اور عالمی تجارت کے تسلسل کو یقینی بنانا ہے۔
خطے میں کشیدگی کو ہوا دینے سے گریز کیا جائے، چین کا امریکا اور ایران کو مشورہ
امریکی صدر نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی حفاظت کے لیے مجوزہ نظام اور اس کی تشکیل پر فوری طور پر عمل درآمد شروع کر دیا جائے گا، اس حوالے سے تمام متعلقہ اداروں کو ضروری ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔
اس سے قبل انہوں نے فاکس نیوز کو ٹیلی فون پر دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ “ہم [امریکہ] آبنائے ہرمز کا کنٹرول لے رہے ہیں، اور اس کا انتظام بھی شاید ہم ہی سنبھالیں۔ ہم “ہرمز کے نگہبان” بنیں گے اور اس کردار کے لیے ہمیں ادائیگی کی جانی چاہیے۔
