اسلام آباد: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے سائبر کرائم کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر موبائل فون، ٹیبلیٹس اور کمپیوٹرز کے تحفظ کے لیے اہم ہدایات جاری کر دیں۔
پی ٹی اے کے مطابق پاکستان سمیت دنیا بھر میں سائبر ہراسانی، آن لائن فراڈ اور ڈیٹا چوری کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کے باعث اسمارٹ ڈیوائسز میں موجود ذاتی معلومات، تصاویر، دستاویزات اور رابطوں کی حفاظت انتہائی ضروری ہو گئی ہے۔
اتھارٹی نے صارفین کو ہدایت کی ہے کہ اہم فائلز، تصاویر اور رابطوں کا باقاعدگی سے محفوظ کلاؤڈ سروس یا بیرونی اسٹوریج میں بیک اپ لیا جائے، جبکہ تمام ڈیوائسز کو جدید ترین سیکیورٹی اپ ڈیٹس اور سافٹ ویئر سے اپ ٹو ڈیٹ رکھا جائے۔
پی ٹی اے نے مضبوط پاس ورڈ، فنگر پرنٹ یا فیس ریکگنیشن جیسی بائیومیٹرک سیکیورٹی استعمال کرنے کی بھی سفارش کی ہے تاکہ غیر مجاز رسائی کو روکا جا سکے۔ ہدایات پر عمل کر کے صارفین اپنی ذاتی معلومات اور ڈیوائسز کو ہیکنگ، ڈیٹا چوری اور آن لائن فراڈ سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق گمشدہ یا چوری ہونے والی ڈیوائسز کی بازیابی کے لیے “فائنڈ مائے آئی فون” اور “فائنڈ مائے گوگل ڈیوائس” جیسی لوکیشن ٹریکنگ سروسز فعال رکھنا بھی مفید ثابت ہوتا ہے۔

پی ٹی اے نے والدین کو مشورہ دیا ہے کہ بچوں کی آن لائن سرگرمیوں کی نگرانی کے لیے اسکرین ٹائم کنٹرول، مخصوص ایپس تک محدود رسائی اور نامناسب مواد کو بلاک کرنے والے فیچرز استعمال کریں۔
یہ بھی پڑھیں: رواں سال کا مکمل سورج گرہن 12 اگست کو دیکھا جا سکے گا
اتھارٹی نے یہ بھی ہدایت کی ہے کہ موبائل فون، ٹیبلیٹ یا کمپیوٹر فروخت کرنے، کسی اور کو دینے یا مرمت کے لیے جمع کروانے سے قبل فیکٹری ری سیٹ ضرور کیا جائے تاکہ ذاتی معلومات کے غلط استعمال سے بچا جا سکے۔
