تہران: ایران کی اعلیٰ قیادت نے آبنائے ہرمز کے معاملے پر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایران اس اہم بحری گزرگاہ پر اپنا کنٹرول کسی صورت نہیں چھوڑے گا۔
ایران کے سپریم لیڈر کے سینئر مشیر محمد مخبر نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول برقرار رکھے گا اور امریکی صدر کے تجارتی راستے کا مکمل کنٹرول سنبھالنے کے عزم کے بعد تہران اس معاملے پر اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔
محمد مخبر کے مطابق ایران آبنائے ہرمز کا دفاع کرے گا تاکہ مستقبل میں اپنے تجارتی اور بحری جہازوں کی آمدورفت کے لیے کسی دشمن کو تاوان یا قیمت ادا نہ کرنا پڑے۔
ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر محمد مخبر نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز پر تہران اپنا کنٹرول ہرگز نہیں چھوڑے گا کیونکہ اسٹریٹجک گزرگاہ کی اہمیت “ایٹم بم” جیسی ہے۔
ان کا یہ دو ٹوک بیان خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول حاصل کرنے کا اعلان کیا تھا۔
مخبر نے زور دے کر کہا کہ اس مقام کا کنٹرول ہونا ایک ایسی طاقت ہے جس کے ذریعے دنیا بھر کی معیشت پر اثر ڈالا جا سکتا ہے۔ ایران اسٹریٹجک پوزیشن اور جنگ کے دوران حاصل ہونے والے فوائد کو کسی بھی قیمت پر نہیں چھوڑے گا۔
ایرانی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز کی سکیورٹی ان کی “ریڈ لائن” ہے اور اس میں کسی بھی قسم کی امریکی مداخلت کا سخت اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔
دوسری جانب ایران کی اعلیٰ مشترکہ فوجی کمانڈ نے بھی سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران امریکا کو آبنائے ہرمز کے انتظام میں کسی بھی قسم کی مداخلت کی اجازت نہیں دے گا۔
فوجی کمانڈ کے مطابق ایران کی اجازت کے بغیر آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کسی بھی امریکی کوشش کا بھرپور مقابلہ کیا جائے گا۔
ہر جہاز سے 20فیصد معاوضہ لیں گے؛ ٹرمپ کا آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کا اعلان
ایرانی فوجی قیادت نے علاقائی ممالک کو بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعاون کو ایران کے خلاف جنگ میں شمولیت تصور کیا جائے گا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ اگر موجودہ کشیدگی نے وسیع جنگ کی صورت اختیار کی تو اس کے اثرات پورے خطے تک پھیل سکتے ہیں، جس کی ذمہ داری امریکا اور اس کے اتحادیوں پر عائد ہوگی۔
