بیجنگ: چین نے آبنائے ہرمز کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے امریکا، ایران اور دیگر متعلقہ فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ خطے میں کشیدگی بڑھانے سے گریز کریں اور اختلافات کو مذاکرات اور سفارتکاری کے ذریعے حل کریں۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ترجمان چینی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ تمام ممالک ایسے اقدامات سے اجتناب کریں جو موجودہ صورتحال کو مزید سنگین یا پیچیدہ بنا سکتے ہوں، کیونکہ خطے میں امن و استحکام برقرار رکھنا نہایت اہم ہے۔
انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز عالمی بحری تجارت کا ایک اہم ترین راستہ ہے، جہاں جہازوں کی محفوظ اور آزادانہ آمدورفت بین الاقوامی تجارت اور توانائی کی مسلسل ترسیل کے لیے ناگزیر ہے۔
چینی وزارت خارجہ نے زور دیا کہ آبنائے ہرمز میں آزاد اور محفوظ بحری آمدورفت تمام ممالک کے مشترکہ مفاد میں ہے۔ اس لیے اس سے متعلق تمام تنازعات کو بات چیت، سفارتی کوششوں اور پرامن ذرائع سے حل کیا جانا چاہیے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کا کنٹرول سنبھالنے اور گزرنے والے ہر جہاز سے کارگو کا 20فیصد بطور معاوضہ لینے کے اعلان کے جواب میں ایرانی فوج کا سخت ردعمل سامنے آیا۔
بیان میں خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹر (ایرانی مسلح افواج) کے ترجمان کرنل ابراہیم ذوالفقاری نے دوٹوک پیغام دیتے ہوئے کہا کہ وہ کسی صورت امریکہ کو اس اہم بحری گزرگاہ کے انتظام میں مداخلت کی اجازت نہیں دے گا۔
یہ بھی پڑھیں: روس پر سائبر حملوں کے الزامات، یورپی ممالک کا سخت ردعمل، نئی پابندیاں عائد
ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز میں امریکی رویہ پورے خطے کے لیے سنگین خطرات پیدا کر رہا ہے۔ امریکہ کی بار بار مداخلت کی کوششوں سے نہ صرف علاقائی سلامتی بلکہ عالمی تجارت اور تیل بردار جہازوں کی آمدورفت بھی متاثر ہو رہی ہے۔
