تہران: ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور اعلیٰ مذاکرات کار باقر قالیباف نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز صرف ایران کے طے کردہ انتظامات کے تحت کھلی رہے گی اور اسے امریکا کی دھمکیوں یا دباؤ کے تحت ہرگز نہیں کھولا جائے گا۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز ایران کی قومی سلامتی اور اس کے تزویراتی مفادات کا اہم حصہ ہے۔ اس لیے اس آبی گزرگاہ سے متعلق ہر فیصلہ صرف ایران کے قومی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ایران کسی بھی بیرونی دباؤ یا دھمکی کے سامنے جھکنے والا نہیں اور آبنائے ہرمز کے بارے میں فیصلے صرف ایران کے طے کردہ انتظامات اور پالیسی کے مطابق ہوں گے۔
باقر قالیباف نے کہا کہ امریکا کی دھمکیوں کے باوجود ایران اپنے مؤقف پر قائم ہے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے ذمہ دارانہ کردار ادا کرتا رہے گا، تاہم قومی خودمختاری اور سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے اور آبنائے ہرمز کی سلامتی ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران نے معاہدے کیلیے رابطہ کیا ہے، ہر حملے کا جواب 20 گنا طاقت سے دیں گے، ٹرمپ
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز سے دنیا کی تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے، اس لیے اس حوالے سے کسی بھی پیش رفت کے عالمی توانائی منڈیوں پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
