فیفا ورلڈ کپ 2026 کے پری کوارٹر فائنل میں ارجنٹائن کے خلاف میچ میں متنازع ریفری فیصلوں کے بعد مصر نے فیفا کے سامنے باضابطہ احتجاج ریکارڈ کرا دیا۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق مصری فٹبال فیڈریشن نے فیفا سے مطالبہ کیا ہے کہ فرانسیسی ریفری فرانسوا لیٹیکسیئر اور وی اے آر آفیشلز کے خلاف تحقیقات کی جائیں اور انہیں ورلڈ کپ سے ہٹایا جائے۔
مصری فٹبال فیڈریشن کا مؤقف ہے کہ ریفری اور وی اے آر حکام نے میچ کے دوران سنگین غلطیاں کیں اور دوہرا معیار اپنایا۔ جس کی وجہ سے مصر ٹورنامنٹ سے باہر ہو گیا۔
فیڈریشن نے الزام عائد کیا کہ متعدد واضح مواقع پر ویڈیو ریویو سے گریز کیا گیا اور مصر کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا گیا۔
فیڈریشن نے فیفا سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں اور ذمہ دار آفیشلز کے خلاف کارروائی کی جائے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز کھیلے گئے پری کوارٹر فائنل میں ریفری کے کئی فیصلوں پر مصری کھلاڑیوں اور کوچنگ اسٹاف نے شدید احتجاج کیا تھا، جبکہ سوشل میڈیا پر بھی ان فیصلوں کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔
میچ کے دوسرے ہاف میں مصر کا ایک گول وی اے آر جائزے کے بعد منسوخ کر دیا گیا۔ ریفری نے تقریباً 100 گز دور ہونے والے مبینہ فاؤل کی بنیاد پر گول مسترد کیا، جس پر مصری ٹیم نے سخت اعتراض کیا۔
میچ کے آخری لمحات میں مصر کے کپتان محمد صلاح اور ایک ارجنٹائنی کھلاڑی کے درمیان ہونے والے ایک واقعے میں مصری کھلاڑی کے حامیوں نے دعویٰ کیا کہ صلاح کو گرایا گیا، تاہم ریفری نے فاؤل قرار نہیں دیا۔ اسی طرح ایک اور واقعے میں بھی مصر نے پنالٹی نہ ملنے پر اعتراض کیا، جبکہ ان فیصلوں پر سوشل میڈیا پر بھی شدید بحث دیکھنے میں آئی۔
دورانِ میچ مصری ہیڈ کوچ حسام حسن نے ریفری کے بعض فیصلوں پر احتجاج کیا، جس پر انہیں یلو کارڈ دکھایا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: فیفا ورلڈ کپ: امریکا اور پرتگال کی شکست کے بعد ٹکٹوں کی قیمتوں میں بڑی کمی
آخر میں ارجنٹائن نے دوسرے ہاف میں تین گول کر کے فتح حاصل کی اور مصر کو 3-2 سے ہرا کر کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی۔
