راولپنڈی:ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ دہشتگردوں اور سہولت کاروں کو کوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بلوچستان کی سیکیورٹی صورتحال پر نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ چار روز کے دوران صوبے میں دہشتگردی کے تین بڑے واقعات پیش آئے، جن میں دہشتگردوں نے اپنے مذموم مقاصد کے لیے عام شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نشانہ بنایا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ پہلا واقعہ 4 اور 5 جولائی کی درمیانی شب، دوسرا 6 جولائی جبکہ حالیہ واقعہ منگی ڈیم کوئٹہ پمپنگ اسٹیشن کے علاقے میں پیش آیا۔ دہشتگردوں نے زیارت میں پولیس چیک پوسٹوں کو بھی نشانہ بنایا، جہاں شہید ہونے والے تمام پولیس اہلکار مقامی تھے۔
انہوں نے کہا کہ منگی کے پہلے حملے میں 9 پولیس اہلکار شہید ہوئے، جبکہ بعد ازاں ایک اور حملے میں 18 پولیس اہلکاروں نے جامِ شہادت نوش کیا۔ آج کے واقعے میں سیکیورٹی فورسز کے 11 جوان بھی شہید ہوئے۔ ان تین بڑے واقعات میں مجموعی طور پر 42 اہلکار وطن کے دفاع میں شہید ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بھرپور جوابی کارروائیاں کرتے ہوئے حالیہ واقعات میں 26 دہشتگرد ہلاک کیے، جبکہ مجموعی کارروائیوں میں اب تک 54 دہشتگرد مارے جا چکے ہیں۔ ان کے مطابق دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کے مکمل خاتمے کے لیے آپریشنز مسلسل جاری ہیں۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ پاکستان کی خوشحالی اور ترقی کے دشمن ان دہشتگرد کارروائیوں میں ملوث ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ افغان سرزمین مسلسل پاکستان مخالف دہشتگرد سرگرمیوں کے لیے استعمال ہو رہی ہے اور ان کارروائیوں میں افغان رجیم کی پشت پناہی شامل ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ بھارت بھی بلوچستان میں دہشتگردی میں ملوث ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی دراصل پاکستان کی ترقی ہے اور ریاستِ پاکستان کا مؤقف واضح اور دوٹوک ہے۔ دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر حد تک پیچھا کیا جائے گا اور معصوم شہریوں اور بہادر سپوتوں کو نشانہ بنانے والوں کو کوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ “فتنہ الخوارج” کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو نیچا نہیں دکھا سکتی اور کہا کہ “ہم حق پر ہیں، اس جنگ میں ان شاء اللہ ضرور کامیاب ہوں گے۔”
