گلگت بلتستان کے نو منتخب وزیر اعلیٰ امجد حسین نے عہدے کا حلف اٹھالیا۔گورنر گلگت بلتستان مہدی شاہ نے ان سے حلف لیا۔
عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد اپنے پہلے خطاب میں انہوں نے کہا کہ کوشش ہوگی کہ گلگت بلتستان میں سرمایہ کاری لائی جائے ، مسلم لیگ ن نے جمہوری اصولوں کی پاسداری کرکے حکومت بنانے کا موقع دیا، حکومت سازی کیلئے حمایت کرنے پر ن لیگ کی قیادت کا مشکور ہوں۔
گلگت بلتستان کے عوام نے پیپلز پارٹی کی قیادت پر اعتماد کیا،دیامر میں پہلی بارپاکستان پیپلز پارٹی کو بھاری مینڈیٹ ملا، عوام نے ذمہ داری سونپی، ان کی توقعات پر پورا اترنے کی کوشش کرینگے۔بطور وزیراعلیٰ عوام کی خدمت میں کوئی کسر نہیں چھوڑوں گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ گلگت بلتستان کے گلیشیئرز پاکستان کی آبی ضروریات پوری کرتے ہیں،پن بجلی کی پیداوار میں گلیشیئرز کا اہم کردار ہے،گلگت بلتستان کی سیاحت کو فروغ دینا ہوگا،گلگت بلتستان کو سیاحت کا مرکز بنایا جا سکتا ہے۔
گلگت بلتستان میں آن ارائیول ویزا کی سہولت ہونی چاہیے،یہاں کے عوام کا پیپلزپارٹی سے تین نسلوں کا رشتہ ہے،دنیا بھر کے سیاح گلگت بلتستان آنا چاہتے ہیں،سیاحوں کو بہترین سہولتیں فراہم کرنا ہماری ترجیح ہوگی۔
پی پی پی12نشستوں کیساتھ گلگت بلتستان کی سب سےبڑی پارٹی بن گئی
سیاحت کے لیے سڑکوں کا انفراسٹرکچر بہتر بنانا ضروری ہے،گلگت بلتستان معدنیات سے مالا مال خطہ ہے،مقامی وسائل بروئے کار لانے کے لیے اقدامات ناگزیر ہیں۔
گلگت بلتستان کی سرحدیں وسطی، مشرقی اور جنوبی ایشیا سے ملتی ہیں،دنیا کی نایاب جنگلی حیات گلگت بلتستان میں موجود ہے،سیاحت کے اعتبار سے گلگت بلتستان نہایت اہم خطہ ہے،شفافیت اور گڈ گورننس ہماری اولین ترجیح ہوگی۔
نومنتخب وزیر اعلیٰ کی زندگی پر ایک نظر
پاکستان پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کے صوبائی صدر امجد حسین ایڈووکیٹ کا شمار گلگت بلتستان کے بااثر سیاسی اور قانونی حلقوں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے اپنی سیاسی بصیرت، عوامی خدمات اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے ذریعے ایک منفرد مقام حاصل کیا ہے۔
امجد حسین ایڈووکیٹ 1975ء میں گلگت کے علاقے امپھری میں ایک معروف سیاسی و سماجی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد، مرحوم آزر خان، ایک ممتاز سیاسی و سماجی رہنما تھے۔ ان کا تعلق بھی پاکستان پیپلز پارٹی سے تھا اور وہ ضلع گلگت کے چیئرمین کے عہدے پر بھی فائز رہے۔
امجد حسین وزیراعلیٰ،حافظ حفیظ الرحمان اپوزیشن لیڈر گلگت بلتستان اسمبلی منتخب
انہوں نے ابتدائی تعلیم اور میٹرک تک کی تعلیم گورنمنٹ ہائی سکول نمبر 1 گلگت سے حاصل کی، جبکہ ایف ایس سی پبلک سکول جوٹیال گلگت سے مکمل کی۔ بعد ازاں انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے سال 2000ء میں ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی اور عملی وکالت کا آغاز کیا۔
امجد حسین ایڈووکیٹ نے زمانۂ طالب علمی ہی سے سیاست میں دلچسپی لی۔ 1996ء میں وہ پیپلز اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے ضلعی صدر منتخب ہوئے اور یوں ان کی سیاسی زندگی کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ ان کی قیادت اور تنظیمی صلاحیتوں نے انہیں جلد ہی پارٹی کے اہم رہنماؤں میں شامل کر دیا۔
قانونی میدان میں بھی انہوں نے نمایاں خدمات انجام دیں۔ وہ گلگت بلتستان بار کونسل اور پیپلز لائرز فورم کے صدر رہ چکے ہیں۔ اس وقت بھی وہ گلگت بلتستان کے معروف وکلاء میں شمار ہوتے ہیں اور سپریم ایپلٹ کورٹ کے سینئر وکیل کی حیثیت سے اپنی الگ شناخت رکھتے ہیں۔
سیاسی سفر کے دوران وہ 2010ء سے 2015ء تک گلگت بلتستان کونسل کے رکن رہے، جہاں انہوں نے قانون سازی، آئینی اصلاحات اور گلگت بلتستان کو زیادہ اختیارات دلانے کے لیے اہم کردار ادا کیا۔
سال 2016ء میں، جب پاکستان پیپلز پارٹی گلگت بلتستان میں سیاسی مشکلات کا شکار تھی اور پارٹی کا گراف تنزلی کی جانب گامزن تھا، تو مرکزی قیادت نے صوبائی صدر کی ذمہ داری امجد حسین ایڈووکیٹ کے سپرد کی۔ انہوں نے ایک نوجوان اور متحرک رہنما کے طور پر دن رات محنت کی اور پارٹی کو نئی توانائی اور سمت فراہم کی۔
استحکام پاکستان پارٹی کا گلگت بلتستان میں پیپلز پارٹی کا ساتھ دینے کا اعلان
ان کی قیادت کے اثرات 2020ء کے گلگت بلتستان اسمبلی انتخابات میں نمایاں طور پر سامنے آئے، جب پاکستان پیپلز پارٹی چار نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی۔ وفاق میں پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت ہونے کے باوجود پیپلز پارٹی گلگت بلتستان میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والی جماعت بن کر ابھری۔ اسی انتخاب میں امجد حسین ایڈووکیٹ نے گلگت اور نگر کے دو حلقوں سے انتخاب لڑا اور دونوں نشستوں پر نمایاں کامیابی حاصل کرکے ایک منفرد سیاسی اعزاز اپنے نام کیا۔
وکالت اور سیاست کے ساتھ ساتھ وہ کاروباری شعبے سے بھی وابستہ ہیں اور پیٹرولیم کے کاروبارکے ساتھ منسلک ہیں۔ کھیلوں کے میدان میں بھی ان کی دلچسپی نمایاں رہی ہے۔ وہ ایک بہترین فٹ بالر اور اسپورٹس مین رہے ہیں، جبکہ (فشنگ) اور مطالعۂ کتب ان کے پسندیدہ مشاغل میں شامل ہیں۔
بطور وزیر اعلیٰ ان کا وژن حقِ حاکمیت، حقِ ملکیت، حقِ روزگار، ادارہ جاتی اصلاحات اور نوجوانوں کے مسائل کے حل پر مرکوز ہوگا۔ وہ گلگت بلتستان کے عوام کے لیے ایک ترقی یافتہ، بااختیار اور خوشحال مستقبل کی تعمیر کے عزم کے ساتھ آگے بڑھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
امجد حسین ایڈووکیٹ کی سیاسی جدوجہد، قانونی مہارت اور عوامی وابستگی انہیں گلگت بلتستان کی سیاست میں ایک نمایاں اور مؤثر رہنما کے طور پر متعارف کراتی ہے۔ یہی خصوصیات انہیں مستقبل کی قیادت کے لیے ایک مضبوط امیدوار بناتی ہیں۔
گلگت بلتستان الیکشن میں جیتنے والے 4 آزاد ارکان استحکام پاکستان پارٹی میں شامل
ان کی شخصیت کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ ان کے سخت ترین سیاسی مخالفین بھی ان کی دیانت داری، شفاف طرزِ سیاست اور کرپشن سے پاک کردار کا اعتراف کرتے ہیں۔ یہی خوبی انہیں دیگر سیاسی شخصیات سے ممتاز کرتی ہے اور عوامی سطح پر ان کی ساکھ کو مزید مضبوط بناتی ہے۔
