اسلام آباد: استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) نے آزاد جموں و کشمیر میں اپنی تنظیمی قیادت کا اعلان کرتے ہوئے سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس کو پارٹی کا صدر مقرر کر دیا ہے۔
استحکام پاکستان پارٹی کے صدر عبدالعلیم خان نے سردار تنویر الیاس کی بطور صدر آزاد کشمیر تقرری کی منظوری دے دی، جبکہ نثار عنصر ابدالی کو آزاد کشمیر میں پارٹی کا جنرل سیکرٹری مقرر کیا گیا ہے۔
دونوں تقرریوں کے باضابطہ نوٹیفکیشن استحکام پاکستان پارٹی کے صدر عبدالعلیم خان کے دستخطوں سے جاری کر دیے گئے ہیں۔
پارٹی قیادت کا کہنا ہے کہ نئی تنظیمی تقرریوں کا مقصد آزاد کشمیر میں استحکام پاکستان پارٹی کو مزید فعال اور مضبوط بنانا اور عوامی رابطہ مہم کو وسعت دینا ہے۔
واضح رہے کہ استحکام پاکستان پارٹی میں شامل ہونے والوں میں سابق وزراء بھی شامل،صدر آئی پی ہی عبدالعلیم خان نے پریس کانفرنس میں کہا کہ حکومت کی باریاں لینے والے اپنے منشور پر عمل نہیں کرسکے. ہم ترقی کا خواب پورا کریں گے۔
استحکام پاکستان پارٹی کے صدر عبدالعلیم خان نے سردار تنویر الیاس اور ان کے ساتھیوں کو پارٹی میں شمولیت پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اگر عوام نے موقع دیا اور آزاد کشمیر میں ان کی جماعت حکومت بناتی ہے تو کشمیر کو مزید خوبصورت اور ترقی یافتہ بنایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جائیں گے، سیاحت کو جدید خطوط پر فروغ دیا جائے گا اور انفراسٹرکچر کو بہتر بنایا جائے گا۔
عبدالعلیم خان نے کہا کہ ماضی میں اقتدار میں آنے والی تمام جماعتیں اپنے منشور پر مکمل عمل درآمد کرنے میں ناکام رہیں۔ ان کے مطابق برسوں سے مختلف پارٹیاں باری باری حکومت کرتی رہی ہیں لیکن آج بھی وہی وعدے دہرا رہی ہیں، جبکہ کشمیر کی محرومیوں کی ذمہ دار یہی جماعتیں ہیں۔
آزاد کشمیر میں حکومت کی باریاں لینے والے اپنے منشور پر عمل نہیں کر سکے، عبدالعلیم خان
انہوں نے کہا کہ باقی وزارت چھوڑ کر صرف وزارتِ مواصلات رکھی کیونکہ ان کی خواہش تھی کہ سڑکوں، شاہراہوں اور انفراسٹرکچر پر مکمل توجہ دی جائے، انہوں نے کہا کہ اچھی سڑکیں، جدید سروس ایریاز اور بہتر سیاحتی ماحول ہی کشمیر کی ترقی کی بنیاد بن سکتے ہیں اور سیاحت کے ذریعے کشمیر کی تقدیر بدلی جاسکتی ہے۔
عبدالعلیم خان نے کہا کہ قدرتی حسن کے اعتبار سے کشمیر سوئزرلینڈ سے بھی زیادہ خوبصورت ہے، ضرورت صرف بہتر منصوبہ بندی اور جدید انفراسٹرکچر کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح کشمیر ایکسپریس وے تعمیر کی گئی، اسی طرز پر کراچی میں لیاری ایکسپریس منصوبے پر بھی کام جاری ہے۔
