چلاس: سپریم ایپلیٹ کورٹ گلگت بلتستان نے حلقہ جی بی اے-17 کے انتخاب سے متعلق اہم فیصلہ سناتے ہوئے 8 پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ پولنگ کرانے کا حکم دے دیا۔
چیف جج جسٹس سردار محمد شمیم خان نے چیف الیکشن کمشنر کی جانب سے 15 جون کو جاری کیا گیا حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے الیکشن کمیشن کو دستیاب ریکارڈ کی بنیاد پر حتمی نتیجہ مرتب کرنے کا فیصلہ بھی معطل کر دیا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ الیکشن کے روز نامعلوم مسلح افراد متعدد پولنگ اسٹیشنز میں داخل ہوئے، انتخابی مواد چھین لیا اور انتخابی عمل شدید متاثر ہوا، جس کے باعث شفاف انتخابات کے تقاضے پورے نہیں ہوئے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ 8 پولنگ اسٹیشنز پر سنگین انتخابی بے ضابطگیاں اور قانون کی خلاف ورزیاں ثابت ہو چکی ہیں، اس لیے وہاں دوبارہ پولنگ ناگزیر ہے۔

آزاد کشمیرالیکشن:سابق اراکین اسمبلی استحکام پاکستان پارٹی میں شامل
عدالت نے مزید قرار دیا کہ چیف الیکشن کمشنر کو اپنے ہی سابق فیصلے پرنظرثانی کا کوئی قانونی اختیار حاصل نہیں تھا، لہٰذا ان کا 15 جون کا حکم قانون کے مطابق برقرار نہیں رہ سکتا۔
سپریم ایپلیٹ کورٹ نے الیکشن کمیشن کو ہدایت کی کہ متاثرہ پولنگ اسٹیشنز پر فوری طور پر نیا انتخابی شیڈول جاری کر کے دوبارہ پولنگ کرائی جائے۔

واضح رہے کہ ریٹرننگ آفیسر کے جاری کردہ فارم 49 کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے محمد نسیم 8 ہزار 954 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے تھے، جبکہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے حاجی رحمت خالق 5 ہزار 286 ووٹ حاصل کرکے دوسرے نمبر پر رہے۔

عدالتی فیصلے کے مطابق حلقے کے 6 پولنگ اسٹیشنز کے بیلٹ باکس چھین لیے گئے تھے، جن کے ووٹ فارم 47 میں شامل ہی نہیں کیے گئے تھے، جس سے انتخابی نتائج پر سوالات کھڑے ہو گئے تھے۔
