معرکۂ حق کے دوران بھارتی حکومت کی جانب سے فوجی ہلاکتوں سے مسلسل انکار کے بعد بالآخر پہلی بار سرکاری سطح پر فوجی اموات کا اعتراف سامنے آ گیا، جس کے بعد مودی حکومت شدید تنقید کی زد میں آ گئی ہے۔
بھارتی جریدے کے مطابق حکومت نے پہلی مرتبہ معرکۂ حق کے دوران ہلاک ہونے والے 6 بھارتی فوجیوں کے نام جاری کیے ہیں۔ اس سے قبل حکومت مسلسل فوجی نقصان کو چھپاتی رہی اور ہلاکتوں سے انکار کرتی رہی۔
رپورٹ کے مطابق معرکۂ حق کے بعد بھارتی حکام کی جانب سے مختلف مواقع پر متضاد بیانات سامنے آئے۔ 11 مئی 2025 کو بھارتی فوج کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز نے ایک پریس کانفرنس میں 5 فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی، تاہم بعد ازاں جولائی 2025 میں وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے پارلیمان میں مؤقف اختیار کیا کہ کارروائی کے دوران کوئی نقصان نہیں ہوا۔
مودی حکومت کو ٹکر دینے والی کاکروچ جنتا پارٹی نئی سیاسی قوت
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ بعد میں پریس انفارمیشن بیورو کے دفاعی شعبے کو وضاحتی اعلامیہ جاری کرنا پڑا، جس کے بعد حکومت کے مؤقف پر مزید سوالات اٹھنے لگے۔
حکومت کی جانب سے فوجی ہلاکتوں کے اعتراف کے بعد اپوزیشن جماعت کانگریس، میڈیا اور عوام کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس نے سوال اٹھایا کہ اگر فوجیوں کی ہلاکتیں ہوئیں تو وزیر دفاع نے قوم اور پارلیمان کو درست معلومات کیوں فراہم نہیں کیں۔
دفاعی امور پر نظر رکھنے والے مبصرین کا کہنا ہے کہ مودی حکومت نے اپنی سیاسی ساکھ برقرار رکھنے کے لیے معرکۂ حق میں ہونے والے نقصانات اور فوجی ہلاکتوں پر تقریباً 13 ماہ تک پردہ ڈالے رکھا اور مسلسل متضاد بیانات نے حکومت کی شفافیت پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
پاکستان نے سفارتی میدان میں بھارت کو پیچھے چھوڑ دیا،مودی سرکارکی ناکامی پر سوالات اٹھنے لگے
تجزیہ کاروں کا مزید کہنا تھا کہ اگر حکومتی سطح پر حقائق مکمل طور پر سامنے نہیں لائے گئے تو آئندہ مزید فوجی نقصانات سے متعلق معلومات بھی منظرعام پر آنے کا امکان موجود ہے، جس پر بھارتی حکومت کو مزید دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
