سرگودھا میں 7 سالہ منتہا زہرہ کے بہیمانہ قتل کیس میں ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آ گئی۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بچی کی موت کی وجہ شہ رگ کا کٹنا قرار دی گئی ہے۔ جبکہ جسم پر متعدد زخموں کے نشانات بھی پائے گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق معصوم بچی کو مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد انتہائی بے دردی سے قتل کیا گیا۔ پولیس نے فرانزک تجزیے کے لیے ڈی این اے نمونے لیبارٹری بھجوا دیے ہیں اور حتمی فرانزک رپورٹ کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
پولیس حکام کے مطابق کیس کا مرکزی ملزم محمد ارسلان مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہو چکا ہے۔ جبکہ واقعے میں نامزد دیگر ملزمان کے ممکنہ کردار کی بھی باریک بینی سے تحقیقات جاری ہیں۔
دوسری جانب وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر معاون خصوصی شعیب مرزا نے ڈی پی او سرگودھا صہیب اشرف کے ہمراہ متاثرہ خاندان سے ملاقات، تعزیت اور فاتحہ خوانی کی۔
انہوں نے متاثرہ اہل خانہ کو یقین دہانی کرائی کہ حکومت پنجاب اس مقدمے کی خود نگرانی کر رہی ہے اور انصاف کی فراہمی ہر صورت یقینی بنائی جائے گی۔
واضح رہے کہ تحقیقات کے دوران پولیس کو ایک اہم سی سی ٹی وی فوٹیج بھی ملی تھی، جس میں معصوم منتہا زہرہ کو ایک دکان کے اندر داخل ہوتے دیکھا گیا، تاہم وہ وہاں سے باہر آتی ہوئی نظر نہیں آئی۔
یہ بھی پڑھیں: علامہ ناصر مدنی نے قانونی نوٹس کے بعد مومنہ اقبال سے معافی مانگ لی
بعد ازاں بچی کی لاش اسی عمارت سے برآمد کی گئی تھی۔ ابتدائی تفتیش میں یہ پہلو بھی سامنے آیا کہ مقتولہ کے والد اور دکان کے مالک کے درمیان کچھ عرصہ قبل تلخ کلامی ہوئی تھی، جس کے بعد مبینہ دھمکیوں کا معاملہ بھی سامنے آیا۔
