بھارت میں سرکاری امتحانات میں مبینہ طور پر بار بار پرچے لیک ہونے اور نوجوانوں میں بڑھتی بے چینی کے تناظر میں “کاکروچ جنتا پارٹی” نامی نئی سیاسی جماعت سامنے آگئی ہے، جو حکومت کی تعلیمی پالیسیوں اور امتحانی نظام پر سخت تنقید کر رہی ہے۔
عالمی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق، بھارت میں مختلف سرکاری امتحانات کے پرچے لیک ہونے کے متعدد واقعات نے لاکھوں طلبا کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے، جس کے باعث نوجوانوں میں شدید احتجاج دیکھنے میں آیا۔
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے کا کہنا ہے کہ اگر حکومت امتحانی مراکز میں نقل اور پرچہ لیک ہونے سے نہیں روک سکتی تو “ڈائپر ہی آخری حل رہ گیا ہے”، جو ان کے بقول موجودہ نظام کی ناکامی کی علامت ہے۔
سی این این کی رپورٹ کے مطابق، مسلسل امتحانی بے ضابطگیوں اور بے روزگاری کے باعث بھارتی نوجوان شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں، جبکہ بعض طلبا خودکشی جیسے انتہائی اقدامات تک پہنچ رہے ہیں۔
کانگریس رہنما ابھیشیک دت نے الزام عائد کیا کہ مودی حکومت کے گزشتہ دس برسوں کے دوران تقریباً نوے امتحانی پرچے لیک ہوئے، جس سے ساڑھے چھ کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے اور ان کے مستقبل کو نقصان پہنچا۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اپوزیشن جماعتیں بھارتی وزیر تعلیم دھرمیندر پرادھان کی کارکردگی پر سوالات اٹھا رہی ہیں اور ان پر تعلیمی نظام کو مؤثر انداز میں چلانے میں ناکامی کا الزام لگا رہی ہیں۔
سی این این کے مطابق، احتجاج کرنے والے طلبا اور نوجوانوں کو بعض حکومتی شخصیات کی جانب سے سخت الفاظ میں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا، جس پر اپوزیشن نے ردعمل دیتے ہوئے حکومت پر اپنی ناکامی چھپانے کا الزام عائد کیا۔
تاریخ اور پولیٹیکل سائنس کی ماہر بابیتا تیاگی کے مطابق، میڈیا میں پیش کیے جانے والے بیانیے اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق دکھائی دیتا ہے، جبکہ عوام کی جانب سے حکومت کی مجموعی کارکردگی، بالخصوص تعلیمی شعبے میں، پر مسلسل سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
