واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران نے ڈرون حملے کر کے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر کم از کم چار حملہ آور ڈرون داغے۔ ایسا کرنا جنگ بندی معاہدے کی احمقانہ خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک ڈرون ایک کارگو جہاز کے بالائی حصے سے ٹکرایا۔ جس کے نتیجے میں مہنگے کارگو جہاز کو نقصان پہنچا تاہم وہ اپنی منزل کی جانب سفر جاری رکھنے کے قابل رہا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکی افواج نے باقی 3 ڈرونز کو راستے میں ہی مار گرایا اور مزید نقصان سے بچا لیا۔
انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات نہ صرف جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی ہیں بلکہ خطے میں امن و استحکام کے لیے بھی خطرہ ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یورپی ممالک پر 100 فیصد ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ ڈیجیٹل سروسز ٹیکس عائد کرنے والے کسی بھی ملک پر فوری 100 فیصد ٹیرف لگے گا۔ اور یہ ٹیرف اس ملک کے ساتھ کیے گئے تمام سابقہ تجارتی معاہدوں کو منسوخ کر دے گا۔
انہوں ںے کہا کہ گزشتہ معاہدے نافذ العمل ہوں یا دستخط شدہ، سب منسوخ ہوں گے۔ کئی یورپی ممالک امریکی کمپنیوں پر ڈیجیٹل سروسز ٹیکس کے نفاذ پر بات کر رہے ہیں۔ اور بعض ممالک امریکی کمپنیوں پر ڈیجیٹل سروسز ٹیکس عائد کرنے کے قریب ہیں۔ ڈیجیٹل سروسز ٹیکس عائد کرنے والے ملک پر 100 فیصد ٹیرف عائد ہو گا۔
دوسری جانب امریکا نے ایران کے پاسداران انقلاب کے ساتھ براہ راست رابطے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے برطانوی نیوز ویب سائٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ امریکی سینٹکام اور ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے حکام دوحہ میں جلد ملاقات کریں گے۔ جس میں اختلافات ختم کرنے، معاشی مراعات اور تعاون پر بات چیت ہو گی۔
یہ بھی پڑھیں: ایران نے منجمد اثاثوں سے امریکی مصنوعات خریدنے کا دعویٰ مسترد کر دیا
امریکی نائب صدر کا کہنا تھا کہ متحدہ عرب امارات نے ایران کے ساتھ ایسے نئے رابطے قائم کیے ہیں جو پہلے نہیں تھے، ان رابطوں میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ساتھ رابطے بھی شامل ہیں۔
