ایران نے امریکا اور خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) کے مشترکہ بیان کو “مداخلت آمیز، غیر ذمہ دارانہ اور اشتعال انگیز” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ خلیج میں امریکی فوجی موجودگی خطے میں عدم استحکام اور تقسیم کا سبب بن رہی ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ مشترکہ اعلامیے میں اختیار کیے گئے مؤقف ناقابل قبول ہیں اور یہ خطے کے امن کے لیے نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔
بیان میں ایران نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے اپنا مؤقف بھی دہراتے ہوئے کہا کہ اس اہم بحری گزرگاہ کا انتظام عمان کے ساتھ مل کر ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے تحت کیا جانا چاہیے، جو امریکا کے ساتھ طے شدہ اصولوں کے مطابق ہو۔
یاد رہے کہ امریکا اور خلیجی تعاون کونسل کے رکن ممالک نے آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھولنے پر زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس اہم بحری گزرگاہ میں آزاد اور بلا رکاوٹ آمد و رفت علاقائی اور عالمی سلامتی کے لیے ناگزیر ہے۔
Joint Statement Following the Ministerial Meeting of the United States and the Gulf Cooperation Council (GCC)https://t.co/G8Xi52oGKA
— Tommy Pigott (@statedeptspox) June 25, 2026
بحرین کے دارالحکومت منامہ میں ہونے والے امریکا-جی سی سی وزارتی اجلاس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ بین الاقوامی قانون کے تحت ٹرانزٹ کے حق سمیت “آزاد، غیر مشروط اور بلا رکاوٹ” جہاز رانی کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔ اعلامیے میں آبنائے ہرمز پر کسی بھی قسم کے ٹول، فیس یا کنٹرول قائم کرنے کی کوششوں کو مسترد کر دیا گیا۔
وزرائے خارجہ نے امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات میں پیش رفت کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ کشیدگی کے مستقل خاتمے کے لیے رفتار اور اتحاد کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔ اعلامیے میں اس مشترکہ ہدف کا بھی اعادہ کیا گیا کہ ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
بیان میں عمان اور عالمی بحری تنظیم کی جانب سے خطے میں پھنسے 11 ہزار سے زائد ملاحوں کے انخلا کے منصوبے کا خیرمقدم کیا گیا، جبکہ 17 جون کو امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کو بھی سراہا گیا۔ اس عمل میں پاکستان اور قطر کے کردار کو بھی تسلیم کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا کا ایران کے پاسداران انقلاب کیساتھ براہ راست رابطے کا فیصلہ
اعلامیے میں کہا گیا کہ خطے میں دیرپا امن کے لیے ایران کے میزائل پروگرام، ڈرونز اور پراکسی گروپس کی حمایت جیسے معاملات کو بھی حل کرنا ہوگا۔ مزید کہا گیا کہ ایران کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری اس کی جانب سے معاہدوں کی پاسداری اور “غیر مستحکم رویے” کے خاتمے سے مشروط ہوگی۔
شام کے حوالے سے وزرا نے ایک مستحکم، پرامن اور خودمختار ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جبکہ لبنان کی خودمختاری اور سلامتی کے لیے جاری سفارتی کوششوں کو سراہا گیا۔ غزہ کے معاملے پر امریکی منصوبے کی حمایت کرتے ہوئے کہا گیا کہ کسی کو بھی زبردستی غزہ چھوڑنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔
اعلامیے میں عراق میں خلیجی ممالک کے خلاف مبینہ ڈرون حملوں کی مذمت کی گئی اور بغداد حکومت کی اس کوشش کی حمایت کی گئی کہ اسلحہ صرف ریاستی کنٹرول میں رہے اور غیر ریاستی گروہ ہمسایہ ممالک کے لیے خطرہ نہ بنیں۔
