نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ امریکی حکام کی جانب سے روکے گئے جہاز کے عملے کے 22 ایرانی ارکان بحفاظت کراچی پہنچ گئے ہیں، جہاں سے ان کی جلد وطن واپسی کے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں اسحاق ڈار نے بتایا کہ لینور/ڈاوینا نامی جہاز کے ایرانی عملے کی آمد آج یعنی جمعہ کے روز سہ پہر کو کراچی میں ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ایرانی مشنز کے ساتھ قریبی رابطے میں رہتے ہوئے ان افراد کی محفوظ اور جلد واپسی کے انتظامات کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔
واضح رہے کہ اس بحری جہاز کو امریکی فورسز نے 5 جون کو بحیرہ عرب میں ایرانی خام تیل منتقل کرنے پر روکا تھا۔ شپ ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق اس جہاز پر 20 لاکھ بیرل خام تیل موجود تھا۔
Overnight, U.S. forces carried out a maritime interdiction and right-of-visit boarding of the sanctioned stateless vessel MT DAVINA located in the Indian Ocean within the INDOPACOM area of responsibility.
We will continue global maritime enforcement to disrupt illicit networks… pic.twitter.com/7sNPNx0doN
— U.S. Pacific Command (@USPACOM) June 5, 2026
وزیر خارجہ کے مطابق اس پورے عمل کے دوران پاکستان امریکی اور ایرانی حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 2 ماہ کے دوران یہ ایرانی عملے کا چوتھا گروپ ہے جس کی وطن واپسی میں پاکستان نے سہولت فراہم کی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اب تک پاکستان 70 سے زائد ایرانی شہریوں کی واپسی میں معاونت کر چکا ہے، جن میں آج کراچی پہنچنے والے 22 افراد بھی شامل ہیں۔
اسحاق ڈار نے ایرانی قیادت کے اعتماد پر شکریہ ادا کرتے ہوئے وزارت خارجہ اور دیگر پاکستانی اداروں کی پیشہ ورانہ خدمات کو سراہا۔
اس سے قبل 17 جون کو اسحاق ڈار نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان 30 ایرانی شہریوں کی واپسی میں سہولت فراہم کر رہا ہے، جن میں 8 ماہی گیر شامل تھے جنہیں برطانوی جہاز نے سمندر میں بچایا تھا، جبکہ 22 افراد اسی جہاز کے عملے کا حصہ تھے جنہیں امریکی حکام نے روکا تھا۔ ان تمام افراد کی محفوظ منتقلی کے لیے پاکستان نے ایران، امریکا اور برطانیہ کے ساتھ قریبی تعاون برقرار رکھا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان انسانی بنیادوں پر تعاون کے لیے پرعزم ہے اور ایرانی شہریوں کی ہر ممکن مدد جاری رکھے گا۔
