برطانیہ کے بادشاہ چارلس سوم نے اپنی ذاتی ٹیکس ادائیگی کی تفصیلات ظاہر کر کے برطانوی تاریخ میں ایک نئی مثال قائم کر دی ہے، وہ پہلی بار ایسے بادشاہ بن گئے ہیں جنہوں نے اپنی انفرادی ٹیکس ادائیگیوں کو عوامی سطح پر جاری کیا ہے۔
برطانوی میڈیا کے مطابق شاہ چارلس نے گزشتہ مالی سال کے دوران 12.9 ملین پاؤنڈ ٹیکس ادا کیا جبکہ پرنس ویلیم نے 7.76 ملین پاؤنڈ ٹیکس کی مد میں ادا کیے۔
شاہ چارلس کو رواں سال شاہی جاگیر سے 25.2 ملین پاؤنڈ کی آمدنی ہوئی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق تخت نشینی کے بعد ستمبر 2022 سے اب تک شاہ چارلس کی مجموعی ٹیکس ادائیگیاں 30 ملین پاؤنڈ سے تجاوز کر چکی ہیں۔
برطانوی پولیس نے بادشاہ چارلس کے بھائی اینڈریو ماؤنٹ بیٹن کو گرفتار کر لیا
شاہی محل کے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اعداد و شمار شاہی مالیات سے متعلق ایک نئے دستاویز کے ساتھ جاری کیے گئے ہیں، جس کا مقصد شاہی اخراجات میں شفافیت کو مزید بہتر بنانا ہے۔
محل کے اہلکار جیمز چیلمرز نے کہا کہ شاہی مالیات بظاہر پیچیدہ نظر آ سکتی ہیں، تاہم یہ ایک منظم قانونی ڈھانچے کے تحت چلتی ہیں جس کا مقصد بادشاہ کو آزادانہ اور شفاف انداز میں خدمات انجام دینے کے قابل بنانا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹیکس کی یہ رقم انہیں برطانیہ کے سب سے زیادہ ٹیکس ادا کرنے والے 100 افراد میں شامل کرتی ہے۔
شاہ چارلس نے میئر لندن صادق خان کو نائٹ کے اعزاز سے نواز دیا
شاہ چارلس اور شہزادہ ولیم کی جانب سے اپنی ٹیکس ادائیگیوں کی تفصیلات رضاکارانہ طور پر جاری کرنے کا فیصلہ ان دونوں کی ذاتی خواہش پر کیا گیا۔
بکنگھم پیلس کے مطابق اس اقدام کا مقصد شفافیت کو فروغ دینا اور شاہی خاندان کی جوابدہی سے متعلق عوامی آگاہی میں اضافہ کرنا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق برطانوی شاہی خاندان کی جانب سے اس نوعیت کی معلومات کا پہلی بار اجراء ایک غیر معمولی قدم ہے۔
