آسٹریلیا کے انٹرنیٹ ریگولیٹر نے ایپل، گوگل اور میٹا سمیت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں پر بچوں کو آن لائن جنسی استحصال اور جنسی بلیک میلنگ (سیکشول ایکسٹورشن) سے محفوظ رکھنے میں سنگین خامیوں کا الزام عائد کیا ہے۔
رائٹرز کے مطابق آسٹریلیا کے ای سیفٹی کمیشن کی ٹرانسپیرنسی رپورٹ کے مطابق متعدد آن لائن پلیٹ فارمز ایسی دستیاب ٹیکنالوجیز کو مؤثر انداز میں استعمال نہیں کر رہے جو جنسی بلیک میلنگ میں استعمال ہونے والے دھمکی آمیز پیغامات اور طریقہ کار کی بروقت نشاندہی کر سکتی ہیں۔
ای سیفٹی کمشنر جولی اِنمین گرانٹ نے کہا کہ ریگولیٹر نے کئی مواقع پر ٹیکنالوجی کمپنیوں کو شواہد فراہم کیے کہ مجرم ان کے پلیٹ فارمز کو بچوں کے خلاف جرائم کے لیے استعمال کر رہے ہیں، تاہم واضح رہنمائی کے باوجود مناسب اقدامات نہیں کیے گئے۔
میٹا کا بڑا اعلان، انسٹاگرام اور واٹس ایپ میں اے آئی سے تصاویر بنانے کا فیچر متعارف
یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آسٹریلیا نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کے قانون پر عمل درآمد سخت کرنے کی تیاری کر رکھی ہے۔ حکومت جون میں ایسی قانون سازی بھی متعارف کرا چکی ہے جس کے تحت ضوابط کی خلاف ورزی پر ٹیکنالوجی کمپنیوں کے خلاف عدالت سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق جولائی سے دسمبر 2025 کے دوران ای سیفٹی کو آن لائن جنسی بلیک میلنگ کی دو ہزار سے زائد شکایات موصول ہوئیں، جبکہ سب سے زیادہ متاثر ہونے والے افراد کی عمر 18 سے 24 سال کے درمیان تھی۔
گزشتہ سال ہونے والی ایک تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا تھا کہ 16 سے 18 سال کی عمر کے ہر دس میں سے ایک نوجوان اس جرم کا شکار بن چکا ہے۔
گوگل کا ہیکرز کا خفیہ ترین منصوبہ ناکام بنانے کا دعویٰ
رپورٹ میں واٹس ایپ، آئی میسج، ڈسکارڈ اور گوگل میسجز سمیت بعض سروسز میں شکایات درج کرانے کے نظام کو بھی ناکافی قرار دیا گیا ہے، جہاں صارفین کے لیے جنسی استحصال یا بلیک میلنگ کی رپورٹ کرنا آسان نہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گوگل اور اسنیپ نے بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق مواد کی نشاندہی اور روک تھام کے لیے بعض نئے حفاظتی اقدامات کیے ہیں، لیکن ریگولیٹر کے مطابق موجودہ پیش رفت اب بھی ناکافی ہے اور بچوں کے تحفظ کے لیے مزید مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔
