بھارت کے معروف سماجی اور ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے پر جاری بھوک ہڑتال کے 17 ویں روز میں داخل ہو گئی ہے، ان کی صحت تشویشناک حد تک متاثر ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
رائٹرز کے مطابق 59 سالہ سونم وانگچک نئی دہلی کے جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاجی دھرنے میں شریک ہیں۔ انہوں نے نوجوان رہنما ابھیجیت دیپکے کی حمایت میں بھوک ہڑتال شروع کی تھی، جو مئی میں لاکھوں طلبہ کو متاثر کرنے والے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیر تعلیم کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے مطابق سونم وانگچک کا وزن اب تک تقریباً 8 اعشاریہ 5 کلوگرام کم ہو چکا ہے اور ان کی صحت مسلسل خراب ہو رہی ہے۔
दुनिया जिसे वैज्ञानिक, आविष्कारक और बदलाव की आवाज़ मानती है,
वह आज 17 दिनों से भूख हड़ताल पर बैठा है।
अपने लिए नहीं। सत्ता के लिए नहीं।
हमारे बच्चों की शिक्षा और भविष्य के लिए।
उनकी चुप्पी एक संघर्ष है,
Be stand with Sonam Wangchuk ✊
📍Jantar Mantar Delhi pic.twitter.com/guFhYsGEil
— @Mohan_Gunjan 🐦 (@MohanKamat11) July 14, 2026
کاکروچ جنتا پارٹی کا کہنا ہے کہ وہ بھوک ہڑتال ختم کرنے پر آمادہ نہیں اور 20 جولائی کو پارلیمنٹ کی جانب مجوزہ مارچ کی تیاری جاری رکھنے کی ہدایت دے رہے ہیں۔
گزشتہ روز احتجاج اور بھوک ہڑتالی کیمپ میں شریک ایک اور نوجوان کو بے ہوش ہونے کے بعد اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
ادھر متعدد اپوزیشن رہنماؤں نے بھی سونم وانگچک سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل کی ہے۔ اتر پردیش کے سابق وزیراعلیٰ اکھلیش یادو نے کہا کہ سونم وانگچک کی زندگی پوری دنیا کے لیے قیمتی ہے کیونکہ وہ انسانیت، ماحولیات اور جمہوریت کے لیے نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں۔
जंतर मंतर पर कई दिनों से CJP का प्रदर्शन चल रहा है। सोनम वांगचुक जी कई दिनों से वहाँ भूख हड़ताल पर बैठे हैं। हम उनकी मांगों का समर्थन करते हैं। धर्मेंद्र प्रधान को तुरंत इस्तीफ़ा देना चाहिए।
मेरी सोनम वांगचुक जी से अपील है कि अपनी भूख हड़ताल अब बंद कीजिए। आप देश की धरोहर हैं।… pic.twitter.com/H2B5TFpSf3
— Arvind Kejriwal (@ArvindKejriwal) July 14, 2026
دوسری جانب بھارتی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان، ان کی وزارت اور حکومت کی جانب سے اس معاملے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی کا بھارت واپسی پر نئی دہلی میں احتجاج کا اعلان
امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے نے بھارت میں لاکھوں طلبہ کو متاثر کیا تھا۔ اسی تنازع کے باعث 23 لاکھ امیدواروں کا میڈیکل کالج داخلہ امتحان منسوخ کرنا پڑا، جسے بعد ازاں دوبارہ منعقد کیا گیا۔ یہ معاملہ نوجوانوں میں بے روزگاری اور تعلیمی نظام پر بڑھتے ہوئے عدم اعتماد کے تناظر میں بھی خاصی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔
خیال رہے کہ بھارت میں مبینہ امتحانی بے ضابطگیوں اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کے مطالبے کو پورا کرنے کے لیے دہلی کے جنتر منتر پر جاری کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج 24 دن سے جاری ہے۔ اس تحریک کو اس وقت مزید تقویت ملی جب معروف ماحولیاتی کارکن سونم وانگچوک نے غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال شروع کی تھی۔ سونم وانگچوک کی بھوک ہڑتال اب سترہویں دن میں داخل ہوچکی ہیں۔
